Mazloom ka matam hai ruka hai na rukega
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Kazmi Brothers
مظلوم کا ماتم ہے رکا ہے نہ رکے گا
یہ ایسا دیا ہے جو ہواؤں میں جلے گا
رخسار یزیدی پہ لگے گا وہ تمانچہ
جو ہاتھ عزادار کے سینے پہ پڑے گا
شہ بولے یہ ہاتھوں پہ اٹھا کر سر مقتل
ہے کون جو اصغر سے میرے بات کرے گا
یا حسین یا حسین یا حسین
صدا رہے گا حسین کا غم
یہ شور گریا یہ شور ماتم
زہرا کی دعا ہے یہ ماتم
یہ ماتم کیسے رک جائے
سہ روز کے پیاسوں سے یہ پانی کا ہے وعدہ
کونین میں اب کوئی بھی پیاسا نہ رہے گا
حر بن کے کوئی آئے تو شبیر کی جانب
یہ ایسا گھرانہ ہے جو مانگو گے ملے گا
اکبر نے کہا شہ سے الٹ دوں گا میں لشکر
بابا مجھے دو گھونٹ اگر پانی ملے گا
یا حسین یا حسین یا حسین
بادشاہ کربلا دین کا ہے آسرا
تیری مجلس تیرا ماتم زندگی ہے یا حسین
قائم کو ذرا آنے دو غیبت سے تکلم
ایک حلقہ ابھی خانہ کعبہ میں لگے گا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.