Ay shame ghariban
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Ali Zia Rizvi
اے شام غریباں اے شام غریباں
تاریخ کا ہے غم سے تیرا چاک گریباں
اب زخم سناں سے علی اکبر گئے مارے
کوثر کو سدھارے
کیا کیا نہ تھے لیلیٰ کو ابھی بیاہ کے ارماں
---اے شام غریباں
چھ ماہ کے بے شیر بھی مارے گئے پیاسے
اک تیرقضا سے
اس ظلم پہ خود اہل جفا ہو گئے گریہ
---اے شام غریباں
بیٹے تھے وہ زینب کے عجب فخرابوجد
وہ عون و محمد
ہم شبیر نے دونوں کو کیا بھائی پہ قرباں
---اے شام غریباں
اکبر ہیں نہ قاسم ہیں نہ اصغر ہیں نہ عباس
اب کوئی نہیں پاس
اک پہر میں شبیر کا گھر ہو گیا ویراں
---اے شام غریباں
شہزادی سکینہ ابھی آغاز سفر ہے
لگتے ہیں طمانچے
اور شام کا زنداں تو ہے پھر شام کا زنداں
---اے شام غریباں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.