Ay meri laadli
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Shahid Baltistani
بڑھنے لگے جب شام غریباں کے اندھیرے
زینب نے کسی شخص کو آتے ہوئے دیکھا
تم کون ہو جب ثانیء زہرا نے یہ پوچھا
چہرے سے نقاب اپنے اٹھا کر وہ پکارا
کہ آیا ہے نجف چھوڑ کے بیٹی تیرا بابا
اے میری لاڈلی زینب
سن کر تیری آواز لحد چھوڑ چکا ہوں
تیرے لئے میں بندھے کفن توڑ چکا ہوں
نازوں کی پلی آ میری آغوش میں آجا
اے میری لاڈلی۔۔۔
عباس کا بابا ہوں خبر ہے تجھے بیٹی
غیرت مجھے نظروں کو اٹھانے نہیں دیتی
بے پردہ ہے تو باپ سے دیکھا نہیں جاتا
اے میری لاڈلی۔۔۔
کیسا ہے ستم تیرا بھرا گھر ہوا خالی
پردیس میں تو ہو گیء بن بھائیوں والی
تو رولے علمدار کو میں دیتا ہوں پہرا
اے میری لاڈلی۔۔۔
بچوں کو غلاموں کے برابر ہی سمجھ لے
بیٹے نہ سمجھ خادم اکبر ہی سمجھ لے
کر عون و محمد پہ بھی کچھ دیر تو گریہ
اے میری لاڈلی۔۔۔
غیروں کی طرح دور وہ کیوں بیٹھی ہے جا کر
میں آ نہ سکا اس کا پدر تھا تہہ خنجر
کیا روٹھی ہے اس بات پہ دادا سے سکینہ
اے میری لاڈلی۔۔۔
کل سے ہے سفر تیرا بہت دور کا بیٹی
یہ سونچ کے پھٹتا ہے کلیجہ میرا بیٹی
پیدل تجھے عادت نہیں چلنے کی ذیادہ
اے میری لاڈلی۔۔۔
زینب نے تکلم کہا ہاے میرا پردہ
جب بولے علی شام کے دربار ہے جانا
تو تنہا نہیں جاے گی میں ساتھ چلوں گا
اے میری لاڈلی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.