Zuljanah
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Zuljana recited by Mir Hasan Mir
لوگوں میرے حسین کو دیکھا ہے تم نے کیا
آ کر یہی جلوس میں کہتا ہے ذوالجناح
آتی ہے اس کے خون کی خوشبو جو بار بار
محسوس ہو رہا ہے یہی ہے میرا سوار
آیا ہے کیا جلوس میں مظلوم کربلا
لوگوں میرے حسین کو۔۔۔
سیدانیاں تڑپتی تھی محشر کی تھی گھڑی
ہے یاد مجھکو آخری رخصت حسین کی
زینب نے مجھکو سونپا تھا بیٹا بتول کا
لوگوں میرے حسین کو۔۔۔
دیکھا جو میں نے پیاسے کی آنکھوں میں انتظار
قدموں کو چوم چوم کے کہتا تھا بار بار
صغرا کے پاس لے چلوں گر حکم ہو تیرا
لوگوں میرے حسین کو۔۔۔
پیاسے کا میرے زیں پہ سنبھلنا محال تھا
برچھی جگر میں تیر بدن میں یہ حال تھا
اترا تھا اک نشیب میں زہرا کا لاڈلا
لوگوں میرے حسین کو۔۔۔
مدت سے ہے تلاش غریب الدیار کی
ہائے پہچان ایک یہ بھی ہے میرے سوار کی
چہرے پہ خون اصغر بے شیر ہے ملا
لوگوں میرے حسین کو۔۔۔
زخموں سے بیوطن کے بہا خون اس قدر
میری جبیں پہ باگ پہ زیں پر رکاب پر
مظلوم کربلا کا لہو ہے لگا ہوا
لوگوں میرے حسین کو۔۔۔
گردن ہے اسکی یوں بھی تکلم جھکی ہوئی
اپنا سوار ڈھونڈ رہا ہے یہ آج بھی
بچھڑا ہے یوں حسین سے اب تک نہیں ملا
لوگوں میرے حسین کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.