Ye sochta hua
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Zuljana recited by Mir Rehan Abbas
یہ سوچتا ہوا خیمے کو ذوالجناح چلا
میرے سرور کی وہ راہ تک رہی ہوگی
پدر کی دید کو در پہ ابھی کھڑی ہوگی
وہ دیکھ کر کہیں مر جاۓ نہ میرا چہرہ
میں کس زباں سے کہوں گا حسین مارے گۓ
یہ سوچتا ہوا خیمے کو۔۔۔
یہ ذوالجناح پکار اٹھا کیا کروں آخر
پڑے ہیں دشت میں سرور نہیں کوئی ناصر
میں کس طرح سے کروں صبر ہاے میرے خدا
میں کس زباں سے کہوں گا حسین مارے گۓ
یہ سوچتا ہوا خیمے کو۔۔۔
میرے بھی جسم سے تو جا بجا ہے تیر لگے
لہو ہے مس شہ والا کا میرے ماتھے سے
وہ دیکھتے ہی کہے گی کہ خوں ہے بابا کا
میں کس زباں سے کہوں گا حسین مارے گۓ
یہ سوچتا ہوا خیمے کو۔۔۔
جو کیفیت شہ والا کی دیکھی ریتی پر
سکینہ سامنے ہے سب بیان کروں کیوں کر
وہ کہہ رہی ہے چلے آیےء میرے بابا
میں کس زباں سے کہوں گا حسین مارے گۓ
یہ سوچتا ہوا خیمے کو۔۔۔
سوال جب وہ کرے گی اے ذوالجناح بتا
ملا تھا پیاسے کو پانی یا مر گیا پیاسا
بتا دے مجھکو کہاں رہ گےء میرے بابا
میں کس زباں سے کہوں گا حسین مارے گۓ
یہ سوچتا ہوا خیمے کو۔۔۔
چلا ہوں دیکھ کے رن سے گلا کٹا شہ کا
ستمگروں نے انہیں مار ڈالا واویلا
زمین گرم پہ ہے شاہ دین کا لاشہ
میں کس زباں سے کہوں گا حسین مارے گۓ
یہ سوچتا ہوا خیمے کو۔۔۔
وہ کہتے رہ گےء عباس ہو کہاں آؤ
ستم کی تیغ سے حلقوم میرا دور کرو
چھری کے نیچے نہیں چلتا بس میرے بھیا
میں کس زباں سے کہوں گا حسین مارے گۓ
یہ سوچتا ہوا خیمے کو۔۔۔
گلے پہ شہ کے پھراتا تھا شمر جب خنجر
حسین پاؤں رگڑتے تھے جلتی ریتی پر
سماں یہ دیکھ کے روتی ہے فاطمہ زہرا
میں کس زباں سے کہوں گا حسین مارے گۓ
یہ سوچتا ہوا خیمے کو۔۔۔
قلم بھی روتا ہے ریحان واقعہ لکھ کر
اب اور کچھ بھی مبارک سے ہو بیاں کیوں کر
جان فاطمہ پر جتن عجیب ہوا
میں کس زباں سے کہوں گا حسین مارے گۓ
یہ سوچتا ہوا خیمے کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.