Kufay kay shehrion ko Zainab nazar na aye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Kazmi Brothers
کہہ دو کوئی ہوا سے خاک اس طرح اڑاۓ
کوفے کے شہریوں کو زینب نظر نہ آۓ
آنکھوں کو بند کر کے زینب ہے منہ چھپائے
کوفے کے شہریوں کو زینب نظر نہ آۓ
اب جم چکی سروں پر خیموں کی راکھ اڑ کر
چادر نہیں سروں پر اب سر ہیں اور پتھر
ان بیبیوں کے سر سے اب اُٹھ گئے ہیں سائے
بازو بندھا کے اپنے مقتل سے جا رہی ہے
ہاۓ نظر جو اس کو ایک لاش آرہی ہے
کیسے نظر ہٹاۓ کیسے قدم بڑھاۓ
اپنے کو چوبِ محمل سے مارتی ہے زینب
بہتا ہے خون ایسے جان وارتی ہے زینب
نیزے پہ سر جو شاہ کے محمل کے پاس آۓ
برھتا ہے جب بھی کوئی خود بڑھ کے ٹوکتی ہے
ہر تازیانہ اپنے ہاتھوں پہ روکتی ہے
فضہ جو اپنے پیچھے زینب کو ہے چھپاۓ
دیوار و در کو صغرا کیا دے جواب آخر
سناٹا پوچھتا ہے کب آئیں گے مسافر
صغرا کا حال کیا ہے کیسے کوئی بتائے
یہ قرض آنسوؤں کا ہاۓ چکے تو کیسے
ہے یہ نوید دریا دریا رکے تو کیسے
زینب کی بےردائ سجاد کو رلائے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.