Ek zuljana ek zulfiqar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Zuljana recited by Ameer Hasan Aamir
اک ذوالجناح ہے اک ذوالفقار ہے
ہیں اک تیغ امام کی اک رہوار ہے
اتری ہے تیغ عرش سے قرآن کی طرح
ٹہرا فرس ہوا پہ سلیمان کی طرح
قادم تھی وہ علی کی جیو سلمان کی طرح
اس پر سوار دوش محمد سوار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
تلوار چاند بن کے چمکتی تھی رات میں
دلدل حسین لگتا تھا مولا کے ساتھ میں
تلوار زیب دیتی تھی حیدر کے ہاتھ میں
سایہ ابو تراب کا دلدل کا ہار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
چومی ہے ذوالفقار نے مولا کی انگلیاں
دلدل کا جسم چھوتی تھی حیدر کی ایڑیاں
بل دیتی تھی جو اسکو علی کی کلائیاں
گردن پہ اسکے دست خدا کا دلار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
تلوار جس کے منہ کو دھلاتی تھی فاطمہ
رہوار جس کو رن میں کھلاتے تھے مرتضیٰ
زہرا جو ذوالفقار کو کرتی تھی آیینہ
ماتھے پہ اس کے پاے علی کا غبار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
تلوار کاٹتی تھی اگر ظلم کی کمر
گھوڑے کی تڑپ توڑتی تھی سرکشوں کے سر
بے اذن ذوالفقار کی اٹھتی نہ تھی نظر
رہوار بھی علی کا اطاعت شعار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
دلدل بھی اپنی شان میں رفرف سے کم نہیں
تلوار میں تو خم ہے جلالت میں خم نہیں
رفتار اسکی چھو لے ہوا میں بھی دم نہیں
اس پر ہر ایک فتح کا دار و مدار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
دونوں ہیں کارخانہء قدرت کے شاہکار
دونوں علی کے پاک گھرانے کے غم گسار
اصغر سے وہ یہ بالی سکینہ سے شرم سار
وہ سوگوار یہ بھی بہت سوگوار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
مستور ہے امام زمن چپ ہے کاینات
گردن میں ہے علی کی رسن چپ ہے کاینات
لٹتا ہے فاطمہ کا چمن چپ ہے کاینات
روتی ہے تیغ نوحہ کناں رہوار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
کربوبلا میں پیاس نہ دونوں کی بجھ سکی
عاشور کو نہ پوچھیےء گھوڑے کی تشنگی
کیا سیر ہوتی تیغ سروں کی رہی کمی
دونوں کی روح آج تلک بیقرار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
تلوار جسکو ننھی لحد کھودنی پڑی
گھوڑا وہ ہے سوار ہوی جسکی واپسی
باگیں کٹی ہوی تھی تو زیں تھی ڈھلی ہوی
پوچھے گی اب سکینہ کہاں شہ سوار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
لب پر ہے اب یہ نیر و عامر کی التجاء
اے وارث حسین سبب دیر کا ہے کیا
پھر تیغ و ذوالجناح کو غیبت سے لے کے آ
دونوں کا کربلا کو بہت انتظار ہے
اک ذوالجناح ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.