Zanjeer bandhe haaton
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nasir Asghar Party
اک لاشہ اٹھا ہے زنجیر بندھے ہاتھوں سے
کانوں سے خون رواں ہے کرتہ بھی جلا ہے
زنجیر بندھے ہاتھوں سے
اے شمر زرا سوچ کیا ظلم ہے کس پر
رخسار نہیں ورق تھا قرآن کا جس پر
ہاتھوں سے تو نے ظلم کا عنوان لکھا ہے
زنجیر بندھے ہاتھوں سے
اک لاشہ اٹھا ہے۔۔۔
نظروں کے آگے باپ کی گردن بھی کٹی ہو
کھاے ہیں طمانچے ریت گرم پر بھی چلی ہو
اس کمسنی میں اتنا ستم کس نے سہا ہے
زنجیر بندھے ہاتھوں سے
اک لاشہ اٹھا ہے۔۔۔
وہ کہتی رہی بابا کا سر دے دو خدارا
زنداں میں بنے کوئی تو جینے کا سہارا
امت نے طمانچوں کے سوا کچھ نہ دیا ہے
زنجیر بندھے ہاتھوں سے
اک لاشہ اٹھا ہے۔۔۔
قرآن مصائب کی وہ معصوم سی آیت
غیرت کا خدا سینے لگاے ہوے میت
زنداں کی دہلیز پہ خاموش کھڑا ہے
زنجیر بندھے ہاتھوں سے
اک لاشہ اٹھا ہے۔۔۔
یہ بات اہلِ درد ہی سمجھیں گے سلامت
سجاد نے تا عمر کبھی دیکھی نہ راحت
چالیس برس آنکھوں سے بس خون بہا ہے
زنجیر بندھے ہاتھوں سے
اک لاشہ اٹھا ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.