Uthaye huwe godh
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
اٹھائے ہوئے گود میں سر پدر کا
سکینہ یہ کہتی تھیں لے کر بلائیں
سناتی ہوں میں قید خانے کی باتیں
مجھے آپ مقتل کی باتیں سنائیں
لبوں پہ چھڑی آپ کہ جب لگی تھی
میں دربار میں سامنے ہی کھڑی تھی
لگائے طمانچے مجھے جب شقی نے
نظر آپ کی میری جانب اٹھی تھی
یہ سب نیل چہروں کہ شاہد ہیں کیسے
ہمیں شام والوں نے دی ہیں سزائیں
اٹھائے ہوئے گود میں۔۔۔
میں ناقے پہ تھی آپ نیزے پہ بابا
میرے پاس سے سر کبھی جو گزرتا
میں ناقے سے خود کو زمیں پر گراتی
لعیں آ کے بالوں سے مجھ کو اٹھاتا
میرا کون تھا جسکو آواز دیتی
کسے کہتی ظالم سے آ کر بچائیں
اٹھائے ہوئے گود میں۔۔۔
رسن ایک تھی اور بارہ گلے تھے
یوں ہم لوگ بازار میں چل رہے تھے
میں کمسن تھی ہمراہ چلنا تھا مشکل
سو اک موڑ پر گر پڑی لڑکھڑا کے
بڑی مشکلوں سے اٹھایا پھوپھی نے
لعینوں کی خواہش تھی بس روند جائیں
اٹھائے ہوئے گود میں۔۔۔
مسلسل ستم کر رہے رھے تھے ستمگر
بہت خوش تھے وہ کاٹ کر آپ کا سر
عجب آگ تھی شام والوں کے دل میں
نہ ٹھنڈا ہوا دل جو خنجر چلا کر
ستایا ہے یوں آپ کو ظالموں نے
وہیں سر رکھا رکھی جس جا ردائیں
اٹھائے ہوئے گود میں۔۔۔
کہیں تھی میں قیدن کہیں تھی یتیمہ
نئے شہر میں نام میرا نیا تھا
سفر نے مجھے اتنے القاب بخشے
کہ میں بھول بیٹھی تھی خود نام اپنا
میں یہ سارے دکھ بھول جاؤں گی بابا
سکینہ جو اک بار کہ کر بلائیں
اٹھائے ہوئے گود میں۔۔۔
لحد میں یہ بابا سے بولی وہ اکبر
مجھے یاد ہے کربلا کا وہ منظر
کی سینے میں تھے تیر پیوست ہر جا
میں کس طرح سوؤنگی زخموں کے اوپر
میں کہتی نہیں مجھکو سینے لگائیں
مجھے آج بس خاک پر ہی سلائیں
اٹھائے ہوئے گود میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.