Turbat
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Shahid Baltistani
انا للہ و انا الیہ رجعون
سکینہ گزر گیء
اب تک نہیں سوی ہوں سلانے چلے آؤ
تربت پہ دیا بابا جلانے چلے آؤ
بابا مجھے مٹی کا مکاں ایسا ملا ہے
اندھیرا جہاں تیرا پتہ پوچھ رہا ہے
بابا میری تنہائی مٹانے چلے آؤ
اب تک نہیں سوی ہوں۔۔۔
اصغر کی طرح مجھکو سلانے نہیں آے
بابا میرا لاشہ بھی اٹھانے نہیں آے
چھوٹی سی سکینہ کو منانے چلے آؤ
اب تک نہیں سوی ہوں۔۔۔
کیا آپ کوئی بستی بسانے گےء بابا
صغرا سے کیا وعدہ نبھانے گےء بابا
اتنا تو سکینہ کو بتانے چلے آؤ
اب تک نہیں سوی ہوں۔۔۔
دادی کی طرح میں بھی تیرے ساتھ چلی ہوں
بابا میں تیرے صبر کے ساے میں پلی ہوں
آنسوں جو چھپاتے ہو دکھانے چلے آؤ
اب تک نہیں سوی ہوں۔۔۔
جو تیری غریبی کا اکیلا تھا سہارا
پانی کے لئے میں نے اسے کھو دیا بابا
یہ داغ کلیجے کا مٹانے چلے آؤ
اب تک نہیں سوی ہوں۔۔۔
کچھ ایسے جھکا بھای کہ پھر اٹھ نہ سکا ہے
باقر کا گلا ہاے کمر سے جو بندھا ہے
بیمار سے ملنے کے بہانے چلے آؤ
اب تک نہیں سوی ہوں۔۔۔
اچھا مجھے سینے پہ سلانا نہیں بابا
کہتی ہوں جو اماں کو بتانا نہیں بابا
احساس یتیمی کا مٹانے چلے آؤ
اب تک نہیں سوی ہوں۔۔۔
ارمان یہ تربت سے سکینہ کی صدا ہے
اے بابا مجھے تم نے بہت پیار کیا ہے
اب پھولوں کی چادر ہی چڑھانے چلے آؤ
اب تک نہیں سوی ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.