Tum bin raaton se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
طشت میں شاہ کا سر قید میں جب لایا گیا
روکے چلائی سکینہ در زنداں کھلا
نبض سے ہاتھ ہٹاؤ ذرا اماں دیکھو
میں نہ کہتی تھی کہ آئے ہیں پدر لینے کو
گود میں باپ کا سر لے کے سکینہ بولی
بابا اک بار بھی تم نے نہ خبر لی میری
تم بن کئی راتوں سے میں سوئی نہیں بابا
کیا یاد سکینہ تمھیں آئی نہیں بابا
یاد آتا ہے وہ آپ کا سینے پہ سلانا
منہ چومنا اور گود میں شفقت سے بٹھانا
ننھے سے مرے ہاتھوں کو آنکھوں سے لگانا
اب پوچھنے والا مرا کوئی نہیں بابا
تم بن کئی راتوں سے۔۔۔
فرمایا تھا یہ آپ نے مٹی پہ سلا کر
سو جانا جہاں تجھ کو سلائے تری مادر
یہ دیکھیے بیٹھی ہوں میں زنداں کی زمیں پر
میں آج بھی اس بات کو بھولی نہیں بابا
تم بن کئ راتوں سے۔۔۔
دیتا تھا سزا شمر یوں بالوں سے پکڑ کر
دوڑائے چلا جاتا تھا رہوار ستمگر
مجبور تھی دوڑوں یوں ہی گھوڑوں کے برابر
حالت وہ مری آپ نے دیکھی نہیں بابا
تم بن کئی راتوں سے۔۔۔
میں کیسے کہوں کیسی تھی اس وقت غریبی
ملنے کو ہمیں آئی تھی جب ہند کی بیٹی
پہنے ہوئے کانوں میں وہ میرے ہی گہر تھی
رملہ سے مگر کچھ بھی میں بولی نہیں بابا
تم بن کئی راتوں سے۔۔۔
اک موڑ پہ ظالم نے ستایا مجھے ایسے
لے آیا مجھے وہ سرِ عباس ع کے آگے
اور سامنے ان کے مجھے مارے تھے طمانچے
سب سہ گئی چپ چاپ میں روئی نہیں بابا
تم بن کئی راتوں سے۔۔۔
پوتی ہوں میں زہرا کی فقط اتنا کہا تھا
وہ سنگ گرے مجھ پہ لہو بہنے لگا تھا
چہرہ مرا ماں سے بھی نہ پہچانا گیا تھا
اب نام بھی میں اپنا بتاتی نہیں بابا
تم بن کئی راتوں سے۔۔۔
اکبر کہا بی بی نے کمر خم ہوئی میری
دادی کی طرح چھائی ہے بالوں پہ سفیدی
فضہ کی طرح چہرے پہ چھائی ہے ضعیفی
اب جینے کی خواہش بھی تو باقی نہیں بابا
تم بن کئ راتوں سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.