Tamache khaaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Shahid Baltistani
ہاے مظلوم ہاے سکینہ
ہاے معصومہ ہاے سکینہ
پانی معصومہ نے مانگا تو طمانچے کھاے
روکے بابا کو بلایا تو طمانچے کھاے
ہاے سکینہ ہاے سکینہ
چھین نے آیا جو زینب کی ردا بچی نے
شمر کو روکنا چاہا تو طمانچے کھاے
پانی معصومہ نے۔۔۔
جلتے خیمے سے نکلتے ہوئے شہزادی نے
راستہ پوچھا نجف کا تو طمانچے کھاے
پانی معصومہ نے۔۔۔
ڈھونڈتی تھی وہ طمانچوں کی شکایت کے لئے
مل گیا باپ کا لاشہ تو طمانچے کھاے
پانی معصومہ نے۔۔۔
گر گیء تھی وہ کہیں چلتے ہوئے ناقے سے
شمر جب ڈھونڈ کے لایا تو طمانچے کھاے
پانی معصومہ نے۔۔۔
اپنے چہرے کو طمانچوں سے بچانے کے لیےء
ننھے ہاتھوں سے چھپایا تو طمانچے کھاے
پانی معصومہ نے۔۔۔
یہ تو اچھا ہی ہوا دل میں کہا کرتی تھی
نہ رہے جب میرے بابا تو طمانچے کھاے
پانی معصومہ نے۔۔۔
کھاے زینب نے کیء درے بھتیجے کے لئے
اس نے باقر تو بچایا تو طمانچے کھاے
پانی معصومہ نے۔۔۔
کوفہ و شام کے بازاروں میں چلتے چلتے
تھک کے بیٹھی جو سکینہ تو طمانچے کھاے
پانی معصومہ نے۔۔۔
میر سجاد سکینہ بھی ہے زہرا کی طرح
ہو گیء جب یہ یتیمہ تو طمانچے کھاے
پانی معصومہ نے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.