Shaam ki aurton ek
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
شام کی عورتوں ایک وعدہ کرو
روز قبرِ سکینہ پہ آو گی تم
جب تلک لوٹ کر میں نہ آؤں
آ کے شمع جلاؤ گی تم
شام کی عورتوں ایک۔۔۔
صورتِ شاہِ دیں بے کفن بھی
میرے جیسی اسیر محن بھی
خالی کُرتے میں مدفونِ غُربت
مثلِ اصغر رہی بے کفن بھی
کیا کفن کی طرح روز چادر
اس لحد پر چڑھاؤ گی تم
شام کی عورتو ں ایک۔۔۔
ایک یثرب کی تھی شاہ ذادی
اُس کا سقہ تھا عباسِ غازی
مشک لیکر گیا سوئے دریا
اور قبضے میں کرلی ترائی
لوریوں میں یہ سچی کہانی
روز اس کو سناؤ گی تم
شام کی عورتو ں ایک۔۔۔
ہم نے زنداں سے پائی رہائی
اب بہن پاس ہوگی نہ بھائی
بات اتنی سی بس یاد رکھنا
میری بچی ہے غم کی ستائی
تم نے بازار میں تو ستایا
اب نہ اس کو ستاؤ گی تم
شام کی عورتو ں ایک۔۔۔
جب کبھی قید خانے میں آنا
بے ردا بیبیوں کو نہ لانا
تم کو اصغر بھی دے گا دُعائیں
اس کی تنہائیاں یوں مٹانا
چھوٹے چھوٹے سے بچوں کو لیکر
پاس اس کے سلاؤ گی تم
شام کی عورتو ں ایک۔۔۔
قبرِ بے کس پہ آنسو بہانے
حال قیدِ ستم کا سُنانے
قافلہ کربلا کو چلا ہے
اس کے بابا کا چہلم منانے
اتنا کہدو ہماری طرف سے
اس کا چہلم مناؤ گی تم
شام کی عورتو ں ایک۔۔۔
شامیوں کی بہو بیٹیوں سے
کہہ رہی تھی وہ اکبر یہ رو کے
یہ امانت ہے پردیسیوں کی
کررہی ہوں تمہارے حوالے
مجھ سے اک بار بس اتنا کہدو
اپنا وعدہ نبھاؤ گی تم
شام کی عورتو ں ایک۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.