Shaam ka zindan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Ameer Hasan Aamir
قید جب شام کے زنداں میں ہوے آل عبا
بی بیاں شام و سحر رہتی تھی مصروف عزا
ایک بی بی تھی کہ تھا نام سکینہ جس کا
روز کرتی تھی یہ یہی شام کے زنداں میں بکا
میرے بھیا علی اصغر کو بیاباں ملا
میں سکینہ ہوں مجھے شام کا زندان ملا
ایک گودی کے پالے ہیں علی اصغر اور میں
چھ مہینوں کے چلے ہیں علی اصغر اور میں
اس کو سونے کے لئے خوں بھرا میدان ملا
میں سکینہ ہوں۔۔۔
مجھکو اس قید کی تنہائی سے ڈر لگتا ہے
کوئی آتا ہے تو پرچھائی سے ڈر لگتا ہے
رحم دل مجھکو نہ اب تک کوئی انسان ملا
میں سکینہ ہوں۔۔۔
ہے نہیں کوئی طرفدار یہاں پر میرا
سانس لینا بھی ہے دشوار یہاں پر میرا
دور سب سے یہ مجھے ہجرہء ویران ملا
میں سکینہ ہوں۔۔۔
یہ نیا زخم دیا ہے میرے مانجاے کو
دو دفا قتل کیا ہے میرے مانجاے کو
اس کا ننھا سا بدن دشت میں بے جان ملا
میں سکینہ ہوں۔۔۔
جب ستمگر نے میرے کانوں سے بندیں کھینچے
اپنے پیاروں کو بلاتی تھی میں آنکھیں میچھے
پر نہ کوئی بھی مجھے اپنا نگہبان ملا
میں سکینہ ہوں۔۔۔
ایڑیاں پیاس کی شدت سے رگڑتے تھا صغیر
گرم ریتی پہ جو دیکھا تو تڑپتا تھا صغیر
جب بھی دیکھا تو میرا بھائی پریشان ملا
میں سکینہ ہوں۔۔۔
پشت ناقہ پہ مجھے باندھےکے لاے ظالم
جو نہ ہموار تھی اس راہ سے لاے ظالم
اس سفر میں نہ کوئی راستہ آسان ملا
میں سکینہ ہوں۔۔۔
میری غربت کا اس امت نے بنایا ہے مذاق
شام و کوفہ کے دیاروں میں اڑایا ہے مذاق
ہم کو احسان کے بدلے میں یہ احسان ملا
میں سکینہ ہوں۔۔۔
روکے کہتی تھی سکینہ یہ کمیل و عامر
کتنا دشوار ہے جینا یہ کمیل و عامر
میری تقدیر سے ہر رنج و محن آن ملا
میں سکینہ ہوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.