Sakina ye pardes hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Safdar Abbas
سکینہ یہ پردیس ہے
وہ شام کا بے سکوں قید کھانا
ہر سو اداسی تھی ہر سو اندھیرا
ہجرے پدر میں تڑپتی تھی بچی
بانو یہ رو رو کے سمجھا رہی تھی
بابا سے ملنے کی ضد نہ کرو
سکینہ یہ پردیس ہے
نہ روز و شب ایسے رویا کرو
سکینہ یہ پردیس ہے
مارے گا تم کو طمانچے ستمگار
روے گی زندان میں گر تڑپ کر
تم سے ہے یہ التجا میری مضطر
راتوں کو اٹھ کر نہ رویا کرو
سکینہ یہ پردیس ہے۔۔۔
کیوں قید فریاد و آہ و بکا ہے
ہر سانس زنداں میں اک سزا ہے
کیوں تیرے رونے پہ پہرہ لگا ہے
اک بات ہر وقت سونچا کرو
سکینہ یہ پردیس ہے۔۔۔
یہ نیلے رخسار غم کی ستای
زخمی گلا اور یہ کان زخمی
زنداں میں کسکو دکھاؤگی بی بی
ہم درد کوی نہ ڈھونڈا کرو
سکینہ یہ پردیس ہے۔۔۔
جب شور گریاں جگاتا ہے اسکو
درے ستمگر لگاتا ہے تم کو
اے میری بچی اگر رونا چاہو
سینہ میں گھٹ گھٹ کے رویا کرو
سکینہ یہ پردیس ہے۔۔۔
آے نگے بابا یہ سونچا تھا بی بی
قسمت میں لیکن کہاں یہ خوشی تھی
یہ خاک زنداں ہے قسمت تمہاری
اب تم خدا پہ ہی تکیہ کرو
سکینہ یہ پردیس ہے۔۔۔
یہ زخم کیسے بھریں گے تمہارے
نہ شہر اپنا ہے لوگ اپنے
درے ہی مرحم کے بدلے ملیں گے
مرحم کی امید اب نہ کرو
سکینہ یہ پردیس ہے۔۔۔
رونے سے حاصل بھی کیا میری دکھیا
یہ شام والے تو سنگ دل ہے بیٹا
تم کو دلاسے یہاں کون دیگا
ماتم کرو چاہے نوحہ کرو
سکینہ یہ پردیس ہے۔۔۔
صفدر یہ رو رو کے کہتی تھی بانو
اے میری بچی میری بات مانو
اس شہر غم کو وطن تم نہ جانو
ہر زخم دل پہ اٹھایا کرو
سکینہ یہ پردیس ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.