Sakina shaam may
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nadeem Sarwar
سکینہ شام میں مر کر یہی سمجھاگئی لوگو
جُدائی باپ کے سینے کی مجھکو کھا گئی لوگو
قفس غربت اُداسی شمر کا ڈر پیاس کی شدت
ستم اتنے ہوئے معصوم کو موت آ گئی لوگو
سکینہ شام میں۔۔۔
جُدائی باپ کے سینے۔۔۔
وہ ماں جو دھوپ میں اکثر علی اصغر کو روتی تھی
سکینہ کی قضا اُس پر قیامت ڈھا گئی لوگو
سکینہ شام میں۔۔۔
جُدائی باپ کے سینے۔۔۔
بندھے ہاتھون پہ اک بیمار لایا بہن کی میت
یہ اولادِ نبی پر کیسی غربت چھا گئی لوگو
سکینہ شام میں۔۔۔
جُدائی باپ کے سینے۔۔۔
بہن کی لاش ہاتھوں پہ لیے سجاد کہتے تھے
گلستانِ امامت کی کلی مُرجھا گئی لوگو
سکینہ شام میں۔۔۔
جُدائی باپ کے سینے۔۔۔
پدر کی خوں بھری گردن پہ بچی نے جو لب رکھے
یہ منظر دیکھ کر تو خود قضا گھبرا گئی لوگو
سکینہ شام میں۔۔۔
جُدائی باپ کے سینے۔۔۔
چچا بابا برادر سب کے سب تو کربلا سوئے
سکینہ کو نجانے شام کیسے بھا گئی لوگو
سکینہ شام میں۔۔۔
جُدائی باپ کے سینے۔۔۔
لکھو شوکت پڑھو سرور بتائو ساری دنیا کو
علی کی لاڈلی پوتی شہادت پا گئی لوگو
سکینہ شام میں۔۔۔
جُدائی باپ کے سینے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.