Sakina phir na
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Rehan Abbas
اُٹھائے پھر رہے ہیں آگ خیموں کو جلاتے ہیں
ستمگر کچھ سروں کو نوکِ نیزہ پر سجاتے ہیں
اٹھائے پھر رہا ہے اک شقی اصغر کو نیزے پر
دکھا کر زخم چہرے کے سکینہ کہتی تھی رو کر
میرے بابا سکینہ پھر نہ سوئے گی
مجھے کچھ دیر ہی بابا سُلا لو زخمی سینے پر
میرے بابا سکینہ پھر نہ سوئے گی
مسلسل جاگنا ہے شام تک تجھ پر ہی رونا ہے
تمہارے بعد مجھکو شام کے زنداں میں سونا ہے
ہیں میرے کان زخمی اور پڑے ہیں نیل چہرے پر
میرے بابا سکینہ پھر نہ سوئے گی۔۔۔
تمہارے ساتھ میری جاں نکل جاتی تو کیا جاتا
مجھے بھی کاش تیرے ساتھ ہی دفنا دیا جاتا
لعیں ماریں گے کل کہہ کر مجھے شبیر کی دختر
میرے بابا سکینہ پھر نہ سوئے گی۔۔۔
ستم سب سے بڑا بابا تیری بیٹی پہ تب ہوگا
چچا عباس کی ہوں لاڈلی معلوم جب ہوگا
ستم مجھ پر کریں گے وہ سرِ عباس دکھلا کر
میرے بابا سکینہ پھر نہ سوئے گی۔۔۔
ردائیں چِھن گئیں سر سے قیامت پھر بھی نہ آئی
نہیں عباس جیسا تیری زینب کا کوئی بھائی
سرہانے ہے کھڑی تیرے پھوپی اماں بھی بے چادر
میرے بابا سکینہ پھر نہ سوئے گی۔۔۔
سروں کے ساتھ نیزوں پر ردائیں بھی اٹھائیں گے
ہجومِ عام میں ہم کو برہنہ سر پھرائیں گے
چھتوں سے آلِ احمد پر بھی وہ برسائیں گے پتھر
میرے بابا سکینہ پھر نہ سوئے گی۔۔۔
فغاں جسکی بلند ہے شمس وہ بالی سکینہ ہے
جو اپنے باپ کی ہے لاڈلی تعویزِ سینہ ہے
لپٹ کر لاشِ بے سر سے یہی کہتی تھی رو رو کر
میرے بابا سکینہ پھر نہ سوئے گی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.