Sakina phir akeli
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Sajjad Mir
ہاے یتیمہ ہاے سکینہ
نہیں تربت پہ کوئی رونے والا
سکینہ پھر اکیلی ہو گیء ہے
کھلونے لے کے آ جاتے تھے بچے
سناتے تھے اسے اصغر کے نوحے
بہل جاتا تھا دل بچوں سے اس کا
سکینہ پھر اکیلی۔۔۔
یہ جانے کون ہے کیا ہے ارادیں
حرم میں ہنس رہے ہیں قہقہوں سے
کوی عباس سے کہہ دے خدارا
سکینہ پھر اکیلی۔۔۔
لحد میں کہہ رہی ہے بچی رو کر
یہ ظالم آے ہیں اب کیوں لحد پر
مجھے ڈر لگ رہا ہے میرے بابا
سکینہ پھر اکیلی۔۔۔
سنا ہے رات کو روتی ہے دکھیا
یہ کر دیتے ہیں تربت پر اندھیرا
حرام میں چھوڑ دیتے ہیں اکیلا
سکینہ پھر اکیلی۔۔۔
بچھا کر فرش تنہا بیٹھی ہوگی
بہت عاشور پر وہ روی ہوگی
ملا ہوگا نہ جب بابا کا پرسہ
سکینہ پھر اکیلی۔۔۔
لحد میں کہتے ہونگے رو کے اصغر
مجھے چھوڑ آییں بابا شام جا کر
بہن کے ساتھ میں اپنی رہوں گا
سکینہ پھر اکیلی۔۔۔
کہو سجاد شامی عورتوں سے
نہ بھولے ثانی زہرا کے وعدے
در زنداں پہ ہے پھر سے اندھیرا
سکینہ پھر اکیلی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.