Sakina meri bachi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Ali Yazdan
سفر میں حال غریبوں کا کیا ہوا تھا سنو
رسن تھی اک گلے اس میں بارہ تھے لوگوں
رسن جو کھنچتی تھی بانو یہ بین کرتی تھی
ہاے سکینہ میری بچی ہاے سکینہ میری بچی
کوی سنبھالے سہارا دے آے بہر خدا
کوی تو حال سنے شاہ کی یتیمہ کا
یہ دیکھو جکڑا ہے رسی سے تشنہ لب کا گلا
ہے خوف یہ کہ نہ مر جاۓ غمزدہ دکھیا
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
گلا بندھا ہے رسن میں رسن جو کھنچتی ہے
تو نفس بالی سکینہ کو جیسے ڈھلتی ہے
جناں پر رنگت وجہ جری بدلتی ہے
اسیر بنو فقط رو کے اتنا کہتی ہے
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
کبھی ہے درے طمانچے کبھی کوی ایذا
انی ہے نیزے کی ظالم کی گھڑکیاں ہے جدا
ہے امتحان تمہارا ہر امتحاں سے سوا
کوی نہیں ہے مددگار بس ہے ذات خدا
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
یہ کمسنی یہ یتیمی یہ ظلم کے شعلے
ہر ایک قدم پہ مصایب سہے سہے کیسے
ہزار بابیں تم پہ مصیبت کے کھولے گےء
خدارا کوئی یتیمہ نہ ایسا دن دیکھے
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
سنا تھا لوگ یتیموں کو خوں رلاتے ہیں
جو ہاتھ آگیا موقع تو ظلم ڈھاتے ہیں
بنا دریغ ہی پردے ستم گراتے ہیں
ہے کتنی آپ سے الفت یہ آزماتے ہیں
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
سروں پہ ظلم کا سایہ ہے کیا کرے مادر
ستم شعار زمانہ ہے کیا کرے مادر
لہو لہو تیرا شانا ہے کیا کرے مادر
جلا ہوا تیرا کرتہ ہے کیا کرے مادر
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
میں تیری جان پہ واری معاف کر دینا
شہ زمن کی دلاری معاف کر دینا
ہمیں حسین کی پیاری معاف کر دینا
خطاییں جو ہے ہماری معاف کر دینا
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
نہیں ہے اب تو بچانے کو اکبر و شبیر
طمانچے أہل ستم کے یہی تیری تقدیر
کوی بھی راستہ آتا نظر نہیں دلگیر
تمہیں بچاؤں کیسے کروں میں کیا تدبیر
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
غریب بچی کو اشک لہو رلایا گیا
کٹا ہوا سر ابنِ علی دکھایا گیا
ہے بنت شہ زمن اس لیےء ستایا گیا
یتیم جان کے ہر اک ظلم ڈھایا گیا
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
مظالم ستم ایجاد یونہی سہتی رہی
بڑے تھے جس میں اسی میں سکینہ باندھی گیء
قدم کے بل نہیں پنجو کے بل وہ چلتی رہی
اسی طرح سے وہ کمسن یتیم شاہ چلی
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
گلا جو جکڑا رسن میں تو بولی یہ بے پر
محال لگتا ہے اب میرا جینا اے مادر
جو سانس رکنے لگی چیخی مادر مضطر
بچالے میری سکینہ کو خالق اکبر
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
بہت ہی سخت یہ منزل ہے دایم و یزداں
سفر جو شام کا تھا کس طرح ہو اسکا بیاں
گلا رسن میں تھا بچی کے لب پہ آہ و فغاں
تڑپ رہا تھا سر نیزرہ سے شاہ زماں
ہاے سکینہ میری بچی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.