Sakina ko kyun
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
کہا رو کے باقر نے عابد سے بابا
سکینہ کو کیوں چھوڑ کر جا رہے ہیں
ہے بابا یہاں پر بلا کا اندھیرا
سکینہ کو کیوں۔۔۔
دیکھا ہے میں نے سفر میں یہ منظر
جہاں پانی ہوتا تھا اُس کو میسر
تو خود اپنے حصے کا پانی ہمیشہ
گراتی تھی یہ آپ کی بیڑیوں پر
میسر ہے اب ہم کو پانی تُو پیاسا
سکینہ کو کیوں۔۔۔
جھکائے ہوئے اپنا سر رو رہی ہے
رہائی کی سُن کر خبر رو رہی ہے
تڑپتی ہے دادی رُباب ایسے بابا
کہ اماں بھی تھامے جگر رورہی ہے
بتائیں گے کیا گر اُنہوں نے یہ پوچھا
سکینہ کو کیوں۔۔۔
مجھے یاد ہے خود یہ کہتے تھے دادا
مدینہ ہے اس کے سبب سے مدینہ
کہ میری نظر میں وہ گھر گھر نہیں ہے
نظر جس میں آئے نہ مجھ کو سکینہ
نہ اس کے بنا پھر بسے گا مدینہ
سکینہ کو کیوں۔۔۔
مدینہ ہو یا شام وکربوبلا ہو
کہ بازار و دربار کا مرحلہ ہو
صدا ہر ستم ہم نے جھیلے ہیں مل کر
تو پھر کیوں نہ یہ میرے دل کی صدا ہو
مجھے بھی یہیں چھوڑ جائیں اے بابا
سکینہ کو کیوں۔۔۔
مجھے آج یاد آرہا ہے وہ لمحہ
گری تھی جو ناقے سے اک دن سکینہ
لگے آپ کی پُشت پر تازیانے
مگر آپ نے قافلہ روکے رکھا
رُکالیں یونہی قافلہ آج بابا
سکینہ کو کیوں۔۔۔
اچانک نگاہیں پڑیں جو لحد پر
سوالات پھر لب پہ آئے نہ اکبر
سکینہ کی تربت کو سینے لگائے
پدر سے یہ کہنے لگے روکے باقر
سمجھ میں میری اب ہے بابایہ آیا
سکینہ کو کیوں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.