Sakina kehti thi rokar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Ghadeer Fatima
سکینہ کہتی تھی رو کر کوی یتیم نہ ہو
یہی دعا ہے لبوں پر کوئی یتیم نہ ہو
خطا بغیر طمانچے لگاے جاتے ہیں
اسیر کر کے کھلے سر پھراے جاتے ہیں
رہوں تو کیسے یہاں پر کوئی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
خبر نہیں تھی کہ یتیموں پہ کیا گزرتی ہے
جو آرزو ہے وہ سینے میں آہ بھرتی ہے
نہ گزرے ایسی کسی پر کوئی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
بھلاؤں کیسے کہ نکھرے میرے اٹھاتے تھے
میں روٹھ جاتی تھی بابا مجھے مناتے تھے
یہ کہتے ہیں وہی منظر کوئی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
بڑے سکون سے سوتی تھی رات بھر جس پر
وہ میرے بابا کا سینہ وہ پھولوں کا بستر
نہیں ہے آج میسر کوی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
لعیں سے بچنے کا اب کوئی راستہ بھی نہیں
ہیں زخم گہرے میسر کوئی دوا بھی نہیں
گزر رہی ہے تڑپ کر کوئی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
بھلا دباؤں کہاں تک میں اپنی آہوں کو
ترس گیء ہوں محبت بھری نگاہوں کو
ہر ایک سانس ہے دو بھر کوی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
یہ سونچتی ہوں کہ بابا کی جب رفاقت تھی
اسیر کرتا مجھے کس میں اتنی ہمت تھی
نہ دیکھتی میں یہ منظر کوی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
خزاں نے گھیر لیا شاہ کے بہاروں کو
کچھ اس طریقے سے چھینا ہے گوشواروں کو
ہیں کان خوں سے میرے تر کوئی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
کوئی نگاہ محبت سے دیکھتا ہی نہیں
ہے عمر چھوٹی کوئی اتنا سونچتا ہی نہیں
ہے سنگ دل یہ ستمگر کوئی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
یتیم ہونے کے اک یہ بھی سزا شاید
میرے نصیب میں اب گھر نہیں بڑا شاید
ہے جینا مرنا یہی پر کوئی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
رضا یہ کہتی تھی دکھیا بہت ہے ہم پر ستم
مدد کو آیےء بابا نکل نہ جاے دم
یہی فغاں تھی لبوں پر کوئی یتیم نہ ہو
سکینہ کہتی تھی رو کر۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.