Sakina ke labon par
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
مرتے مرتے تھا سکینہ کے لبوں پر نوحہ
سر میرے ساتھ ہی دفنا دو میرے بابا کا
موت کے بعد ہی کم ہو میرے شاید اعزار
رکھ دوں رخساروں پہ ان کے جو میں اپنا رخسار
ان کے زخموں سے لگا دو میرا زخمی چہرہ
مرتے مرتے تھا۔۔۔
بعد مدت کے ملا ہے یہ سکوں آج مجھے
میں نے بابا کو لگایا ہے گلے سے اپنے
بھول جاے نہ کہیں دل ہی دھڑکنا میرا
مرتے مرتے تھا۔۔۔
کس نے رخساروں پہ مارے ہیں طمانچے ان کے
لب میرے بابا کے زخمی ہے ذیادہ مجھ سے
ہو بہو چہرہ ہے بابا کا سکینہ جیسا
مرتے مرتے تھا۔۔۔
اشک جو بہتے چلے جاتے ہیں بند آنکھوں سے
دیکھی جاتی نہیں شاید میری حالت ان سے
حال یہ بابا کا مجھ سے نہیں دیکھا جاتا
مرتے مرتے تھا۔۔۔
شمر کا خوف نہ تربت میں رلاے گا مجھے
کس کی ہمت جو کوی آ کے ڈراے گا مجھے
ہونگے تربت میں میرے ساتھ جو میرے بابا
مرتے مرتے تھا۔۔۔
ریسماں ہٹتی نہیں میرے گلے سے جیسے
آپ اس کو بھی تو دفناییں گے ہمراہ میرے
سر بھی رحم دے میرے پاس بہ نام زہرا
مرتے مرتے تھا۔۔۔
روتی جاتی تھی یہ کہتے ہوئے بی بی اکبر
مل کے بابا سے ہر ایک غم ہوا رخصت یکسر
درد کانوں کا مجھے بھول گیا ہے بھیا
مرتے مرتے تھا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.