Sakina jaag jayegi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Shahid Baltistani
ہائے سجاد مُحاری ہائے بیمار مُحاری
مچائوشور نہ لوگو سکینہ جاگ جائے گی
میری زنجیر نہ کھینچو سکینہ جاگ جائے گی
کبھی بچی کو تکتا ہے کبھی آنسو بہاتا ہے
درِ زندان پہ بیٹھا مسافر سب سے کہتا ہے
ذرا آرام سے گُزرو سکینہ جاگ جائے گی
میری زنجیر نہ۔۔۔
کسی بھی ظلم کے جو آہ کی خاطر وہ لب کھُلتے
تڑپ کر عابدِ بیمار یہ کہتا تھا ہونٹوں سے
اگر یہ آہ نکلی تو سکینہ جاگ جائے گی
میری زنجیر نہ۔۔۔
اگر اولاد والے ہو تمہیں یہ سب پتہ ہو گا
ادھوری نیند سے اُٹھ جائے جو بچی تو کیا ہو گا
خدارا شمر کو رو کو سکینہ جاگ جائے گی
میری زنجیر نہ۔۔۔
ابھی زندان میں ہو جائے گا کُہرام پھربرپا
وہ آہٹ سُن کے سمجھے گی کہ شاید آ گئے بابا
درِ زندان نہ کھولو سکینہ جاگ جائے گی
میری زنجیر نہ۔۔۔
یہ وعدہ ہے میرا پانی نہیں مانگوں گا میں تم سے
وہ جب اُٹھ جائے تو جی بھر کے بیشک مارنا دُرّے
ابھی بے کس کو نہ مارو سکینہ جاگ جائے گی
میری زنجیر نہ۔۔۔
ابھی آزاد ہو تم قید کے مطلب کو کیا جانو
پرندو چھوڑ دو زندان میری التجا مانو
چلے جائو نہ یوں چہکو سکینہ جاگ جائے گی
میری زنجیر نہ۔۔۔
سرِ زنداں سکینہ کو قضا کی نیند کیا آئی
کسی سے کچھ نہیں کہتا ہے اس مظلوم کا بھائی
کے اب یہ ڈر نہیں اُس کو سکینہ جاگ جائے گی
میری زنجیر نہ۔۔۔
صفِ ماتم سے عابد کا یہ اکبر بین آتا ہے
اسے بس باپ کے پُرسے میں ہی اب چین آتا ہے
صدا ماتم کی نہ رو کو سکینہ جاگ جائے گی
میری زنجیر نہ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.