Jiska Elan Nahi Hua Koi Ye Madinay Ka Wo Janaza Hay
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Syed Muhammad Shah
جس کا اعلاں نہیں ہوا کوئی یہ مدینے کا وہ جنازہ ہے
یہ ہے اکلوتی بیٹی احمد کی کلمہ گویوں نے جس کو مارا ہے
تھے فقط ساتھ لوگ ہیں ایسے جو بلائے گئے جنازے میں
ان سے ہٹ کر بھرے مدینے سے نہ بلایا نہ کوئی آیا ہے
بس یہ تفصیل ہے مصائب کی ہے یہی درد کا خلاصہ بھی
جس کہ آگے نہ سر اٹھانا تھا اُس پہ اُمت نے ہاتھ اٹھایا ہے
کیسی غربت ہے اس جنازے کی کاندھا دینے کو چار کاندھے نہیں
یہ جنازہ اٹھانے والوں میں ایک مستور ہے جو فضہ ہے
امن کا شہر تھا مدینہ مگر قبر زہرا وہاں نہیں محفوظ
تیغ اٹھا کر جہاں بقیعہ میں ایک مظلوم پہرا دیتا ہے
ہائے غربت کے بنت ِسرور کو تعزینے سے جس نے مارا تھا
اُسی قنفض لعیں کو حاکم نے خاص انعام سے نوازاہ ہے
بنت سرور کی یہ وصیت تھی وہ نہ آئیں مرے جنازے پر
مرے بابا کے بعد جس جس نے یا علی میرا دل دکھایا ہے
جرم کیا تھا بتول کا محسن صرف اتنا علی کی زوجہ تھی
قتل کر کے بتول لوگوں نے خم کا بدلہ تھا جو چکایا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.