Qaid khane se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
سمجھ کے زہرا ستایا گیا سکینہ کو
قدم قدم پہ رلایا گیا سکینہ کو
وہ زخم آج بھی تازہ ہے پشت ناقہ سے
ہائے گری نہیں ہے گرایا گیا سکینہ کو
قید خانے سے سکینہ کی یہ آتی تھی صدا
پسلیاں ٹوٹ گئی میری بھی دادی کی طرح
مجھکو چلتے ہوئے ناقے سے گرایا بابا
…پسلیاں ٹوٹ گئی
ہو گئی چاربرس میں ہی سکینہ زہرا
…پسلیاں ٹوٹ گئی
وہ بھی دادا سے چھپاتی رہی اپنا پہلو
مجھ سے بھی دیکھے نہ جائیں گے علی کے آنسو
جیتے جی میرے، میرا زخم نہ دیکھیں بھیا
…پسلیاں ٹوٹ گئی
کیسے آئی ہوں میں بازار سے ہو کر بابا
مجھ کو مارے گئے اس زخم پہ پتھر بابا
روکے میں کہتی رہی پھربھی کسی نے نہ سنا
…پسلیاں ٹوٹ گئی
اب سمجھ سکتی ہوں کس طرح سے سوتی ہونگی
ہاتھ پہلو پہ رکھے کیسے تڑپتی ہونگی
کروٹیں درد مجھے بھی نہیں لینے دیتا
…پسلیاں ٹوٹ گئی
ہو بہو فاطمہ زہرا سی ضعیفی چھائی
جھریاں چہرے پہ بالوں میں سفیدی آئی
اک کمی باقی تھی وہ بھی ہوئی پوری بابا
…پسلیاں ٹوٹ گئی
ساتھ سورج کے یہ دل ڈوب رہا ہوتا ہے
اماں کہتی ہیں یہی وقت دعا ہوتا ہے
روز کرتی ہوں سر شام میں مرنے کی دعا
…پسلیاں ٹوٹ گئی
جاکے جنت میں بھی آرام نہیں آئےگا
کیا یہ ارمان میرے دل میں ہی رہ جائے گا
کیسے گودی میں اٹھاونگی میں اصغر کو بھلا
…پسلیاں ٹوٹ گئی
آپ کاسر جلے دامن میں اٹھانے کے لئے
ہاتھ دربار میں مشکل سے اٹھائے میں نے
تم کو اس وقت بھی میں نے نہ بتایا بابا
…پسلیاں ٹوٹ گئی
گر پڑی خاک پہ ناموسِ نبی پیٹ کے سر
قید خانے میں ہوئی اور قیامت اکبر
لے کے سر باپ کا بچی نے جو رو رو کے کہا
…پسلیاں ٹوٹ گئی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.