Suno Sana E Hussain
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Imran Datoo
آنا نصیب ہوئی حریت کی آب و ہوا
تھے تجھ پہ جو بھی غلامی کے دن وہ بیت گئے
اب اپنے سر کو اٹھا اے دبی ہوئی مخلوق
یزید ہار گیا اور حسین جیت گئے
سنو ثنائے حسین
فرماں روائے کشور یزداں حسین ہے
حاجت روائے عالم امکاں حسین ہے
مخدوم اقتدار سلیمان حسین ہے
عباس سے وزیر کا سلطاں حسین ہے
گھنگھور بادلوں کے گھرانے برس پڑے
نعلین جھاڑ دے تو خزانے برس پڑے
تشنہ لبی میں نہر لبن بانٹتا ہے یہ
دشت خزاں میں بوئے چمن بانٹتا ہے یہ
تلخی لب کو حسن سخن بانٹتا ہے یہ
حد ہے مسافرت میں وطن بانٹتا ہے یہ
خیرات بے مثال عطا بے نظیر ہے
خود بادشاہ باپ جناب امیر ہے
سویا ہوا ہر ایک نصیبہ جگا دیا
تشنہ لبی میں خیر کا دریا بہا دیا
پل میں گداگروں کو تونگر بنا دیا
اب بھی یہ پوچھتے ہو کہ سرور نے کیا دیا
عزت بھکاریوں کی بڑھا دی حسین نے
عادت ہی مانگنے کی چھڑا دی حسین نے
دشواری حیات کو آسان کر دیا
محسن ہے کائنات کے احسان کر دیا
غربت نصیب لوگوں کو دھنوان کر دیا
اتنا دیا حسین نے سلطان کر دیا
شہر سخا میں فصل عطا کاٹنے لگا
جو بھیک مانگتا تھا وہ خود بانٹنے لگا
کوثر کا جام جام حقیقت شناس ہے
دھاروں میں اس کے شہد سے بڑھ کر مٹھاس ہے
ہر دشمن سبیل یہاں پر اداس ہے
منکر سے بڑھ کے پوچھیے کیوں بدحواس ہے
موجوں میں ذائقہ ہے جو اس درجہ چین کا
کوثر نے پاؤں دھو کے پیا ہے حسین کا
محشر کی دھوپ اور وہ خورشید شعلہ بار
ہوگا کوئی کسی کا جہاں پر نہ غم گسار
دوزخ بھی ہوگی بھوک سے بے چین و بے قرار
ایسے میں لائے جائیں گے جس دم گناہگار
خالق کہے گا ان کا طرفدار کون ہے
زہرا کہیں گی ان میں عزادار کون ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.