Pyasi hai sakina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nasir Zaidi
اے مومنوں جب مجلس شببر میں آنا
بچوں کا تمہیں واسطہ یہ بھول نہ جانا
یہ سوچ کے جی کھول کے تم اشک بہانا
مجلس جہاں ہوگی وہاں آتیں ہیں سکینہ
پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہیں سکینہ
پیاسی ہیں سکینہ ہاے پیاسی ہیں سکینہ
الله کرے آے کبھی ایسا زمانہ
ہو شام کے زندان کی طرف آپ کا جانا
پھٹ جاییگا دل دیکھ کے وہ غم کا ٹھکانہ
بے حال ہوئی قبر میں سوتی ہے سکینہ
پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہیں سکینہ
یوں جانب دریا گئے عبّاس دلاور
اور دریا سے مشکیزہ بھرا بادل مضطر
دریا کی ہر اک موج یہ کہتی تھی تڑپ کر
ہے تیسرا دن ہاے تڑپتی ہے سکینہ
پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہیں سکینہ
شام آگئی جب چھانے لگا بن میں اندھیرا
زینب نے کیا بھائی کے لاشے پہ یہ نوحہ
کیا تم نے سکینہ کو کہیں دیکھا ہے بھیا
اک کوزہ لئے دشت میں آی ہے سکینہ
پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہیں سکینہ
جب گیارہ محرم کو سوے شام سدھاری
دریا کی طرف دیکھ کے زینب یہ پکاری
عبّاس نہ مرجاے بھتیجی یہ تمہاری
بے حال میری گود میں سوتی ہے سکینہ
پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہیں سکینہ
اس طرح ستم ڈھاتے ہیں اب ظلم کے بانی
لاکر یہ بھرے کوزے بہا دیتے ہیں پانی
کچھ اور بھی بڑھ جاتی ہے یوں تشنہ دہانی
بھائی کی طرف دیکھ کے روتی ہے سکینہ
پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہیں سکینہ
آنسو ابھی بچی کے نہیں پاے تھے تھمنے
پھر مار دیا درّا کسی اہل ستم نے
سجاد کو ہر گام رلایا اسی غم نے
اس عمر میں یہ سختیاں سہتی ہیں سکینہ
پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہیں سکینہ
دروں کی اذیت سے تڑپتی ہے حزینہ
دکھتا ہے بدن سسکیاں لیتی ہے سکینہ
سونے کے لئے پاس نہیں بابا کا سینہ
اک کونے میں سہمی ہوئی بیٹھی ہے سکینہ
پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہے سکینہ
یہ ظلم بھی کمسن پے ستمگاروں نے ڈھایا
رکھا ہے اسے قید وہاں یکا و تنہا
رہتا ہے جہاں دن میں قیامت کا اندھیرا
ڈر ڈر کے نہ مر جائے اکیلی ہے سکینہ
پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہیں سکینہ
کہتا ہے سنو ہاتھوں کو جوڑے ہوے گوھر
آج ایسے بہے آنکھوں سے اشکوں کا سمندر
یہ کہتی ہوئی جائے نہ شببر کی دختر
لیب خشک زباں سوکھی ہے روتی ہے سکینہ
پانی نہ ملا آج بھی پیاسی ہیں سکینہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.