Mai nahi manta
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Zafar Abbas Zafar
کر نہ پائے جو اجر رسالت ادا
اس مسلمان کو میں نہیں مانتا
وہ جو ظلم و تشدد پہ خاموش ہے
ایسے انسان کو میں نہیں مانتا
آپ جھوٹوں کو صادق بناتے رہے
بزدلوں کو بہادر کہا آپ نے
کل ایمان سے جس کو نسبت نہ ہو
اس کے ایمان کو میں نہیں مانتا
اہل بیت نبی کا قصیدہ ہے یہ
جس کو مولا نے مولا پہ نازل کیا
جس کے قرآن میں ہل اتی ہی نہ ہو
اس کے قرآن کو میں نہیں مانتا
ہم ملنگوں کو تسلیم ہے وہ چمن
جس میں کھلتے رہے ہوں گل پنجتن
فصل ہی جس میں بغض علی کی لگے
اس گلستان کو میں نہیں مانتا
اس کی وابستگی ہے نجس خون سے
جو نبی کے نواسے کو باغی کہے
جو یزید ایسے ظالم کی عزت کرے
ایسے مروان کو میں نہیں مانتا
کون گمراہ ہے کون حق آشنا
مہدی دیں بتا دیں گے آکر تمہیں
آل عمران کو تم نہیں مانتے
نسل سفیان کو میں نہیں مانتا
کون گستاخ ہے کون ہے باوفا
فیصلہ یہ بھی تاریخ نے کردیا
لفظ قرطاس کو تم نہیں مانتے
لفظ ہذیان کو میں نہیں مانتا
حیثیت کیا ہے باغ فدک کی بھلا
باغ جنت کی ہے مالکہ سیدہ
وہ جو دربار غاصب سے صادر ہوا
ایسے فرمان کو میں نہیں مانتا
قوم کے بے ضمیروں سے کہہ دے کوئی
وقت اب یہ گھروں سے نکلنے کا ہے
جانتے بوجھتے بھی جو انجان ہے
ایسے انسان کو میں نہیں مانتا
کیا نبی کے نواسوں سے افضل ہو تم
اپنے حجروں سے باہر نکلتے نہیں
مرد کی شان ہوتی ہے میدان میں
بزدل انسان کو میں نہیں مانتا
بولتے ہیں جو مظلومیت کی زباں
چاہتے ہیں زمانے میں امن و اماں
جس کو انسانی جانوں کی پرواہ نہ ہو
ایسے انسان کو میں نہیں مانتا
چاہتے ہو اگر خانہ جنگی نہ ہو
حکمرانو بس اب ہوش میں آؤ تم
قاتلوں کو سر عام لٹکاؤ اب
صرف اعلان کو میں نہیں مانتا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.