Munazera
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Mehdi (a.s) recited by Shahid Baltistani
ایک مفتی مجھے دوستو کل رات ملا تھا
مہدی کا مخالف تھا یہ چہرے پہ لکھا تھا
ایمان پہ میرے ضرب لگانے پہ تلا تھا
میں اس کے ارادے پہ بہت دل میں ہنسا تھا
کہتا تھا یہ غیبت مجھے افسانہ لگے ہے
میں نے کہا تو بھی مجھے دیوانہ لگے ہے
ہر چیز نظر آئے ضروری نہیں مفتی
حوریں بھی نہیں دیکھی ہیں ایمان ہے پھر بھی
اصحاب کہف پر بھی تجھے شک نہیں کوئی
پھر کیوں نہ ذہانت بھی ہنسے عقل پہ تیری
تو جس کو گمان مان رہا ہے وہ یقین ہے
شیطان کا قائل تو ہے مہدی کا نہیں ہے
یہ سن کے ہی مرنے لگا وہ بغض کا مارا
باز آیا نہیں پھر بھی وہ شیطان کا پیارا
ایک بار کیا پھر اسے ذلت نے اشارہ
اور ہاتھ رکھے دل پہ وہ چلایا بیچارہ
اس وقت بتا مجھ کو تیرا مہدی کہاں ہے
میں نے کہا اللہ جہاں ہے وہ وہاں ہے
یہ سن کے وہ کہنے لگا توبہ ہا رے توبہ
مہدی کو تو اللہ کے جیسا ہے سمجھتا
میں نے کہا پڑھ لکھ کے بھی جاہل ہے تو بیٹا
کیا خاک تیری عقل نے اللہ کو جانا
گر اس کا ولی حاضر و ناظر نہیں ہوگا
اللہ کے ہونے کا پتا کیسے چلے گا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.