Phir chahe sakina ko
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
تھا بین سکینہ کا ہے رکنے کو مرا دل
جاتا ہے ردا چھین کے بےشیر کا قاتل
آسان یہ کردیں مرے بھیا مری مشکل
گوہر بھی نہیں چاہیے نہ چاہیے محمل
کر دے جو مرے سر کی ردا میرے حوالے
پھر چاہے سکینہ کو وہ جتنا بھی ستا لے
خنجر سے گلا شہ کے میرے سامنے کاٹا
پتھر تنِ مظلوم پہ مارے گئے بھیا
زخموں پہ مگر بابا کے اب ریت نہ ڈالے
پھر چاہے سکینہ کو۔۔۔
گوہر میرے چھینے یہ ستم میں نے سہا ہے
خوں میرا ستمگار کے ہاتھوں پہ لگا ہے
بس میرا لہو ہاتھوں سے اپنے وہ ہٹا لے
پھر چاہے سکینہ کو۔۔۔
رہوراوں کو تیار جو کرتے ہیں مسلماں
بھیا یہ ستم دیکھ کے مر جائیں گی اماں
پامالی سے لاشہ علی اصغر کا بچا لے
پھر چاہے سکینہ کو۔۔۔
کرتا ہےدکھی شاہ کی ہمشیر کو جیسے
لہراتا ہے وہ چادرِ تطہیر کو جیسے
نیزے پہ مرے باپ کا سر یوں نہ اچھالے
پھر چاہے سکینہ کو۔۔۔
تلواروں سے چہرے پہ کئ زخم لگے ہیں
مظلوم کے یہ ہونٹ تو پہلے سے کٹے ہیں
اب بابا کے ہونٹوں سے چھڑی اپنی ہٹا لے
پھر چاہے سکینہ کو۔۔۔
ہم سے سہی جاتی نہیں تاشوں کی اذیت
ہنستے ہیں لعیں دیکھ کے ہم ساروں کی حالت
رستے اے ہمارے یہ تماشائی ھٹا لے
پھر چاہے سکینہ کو۔۔۔
میں اپنے لیے چھاؤں تو نہیں مانگتی بھیا
ان شام کی راہوں میں فقط وقت دے اتنا
<
دامن سے کروں صاف ترے پیروں کے چھالے
پھر چاہے سکینہ کو۔۔۔
اکبر تھیں تڑپ کر یہ سکینہ کی صدائیں
رکھتا ہے سرِغازی پہ بہنوں کی ردائیں
یہ چادریں وہ سر سے چچا جاں کے اٹھا لے
پھر چاہے سکینہ کو۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.