Gar ho meri hayaat mere ikhteyar me
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Mehdi (a.s) recited by Shadman Raza
العجل العجل یا امام زمانہ العجل
گر ہو میری حیات میرے اختیار میں، صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
مولا اب آپ پردہ غیبت اٹھائیے، دو دن تو زندگی کے گزاروں بہار میں
اس وقت گرچہ عدل سے خالی زمین ہے
مظلوم کے مکان میں ظالم مکین ہے
دنیا ستم شعار ہے مغلوب دین ہے
مولا ضرور آئیں گے مجھ کو یقین ہے
مجھ کو یقین ہے
آئے گی کچھ کمی نہ میرے اعتبار میں
صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
گر ہو میری حیات میرے اختیار میں، صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
سب لوگ خواہشات کے اب ہو گئے غلام
ابلیسیت کا دور ہے بے پردگی ہے عام
پینے لگے لہو ہیں تو کھانے لگے حرام
کہتا ہے دل کہ بس ابھی آ جائیے امام
آ جائیے امام
گر دیر ہے مشیت پروردگار میں
صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
گر ہو میری حیات میرے اختیار میں، صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
مشکل کے وقت ہم نے پکارا ہے یا حسین
غیبت کے امتحان میں سہارا ہے یا حسین
قرآن اہل بیت کا پارہ ہے یا حسین
حق نے ہمارے دل پہ اتارا ہے یا حسین
اتارا ہے یا حسین
رہ کر دعا بنت نبی کے حصار میں
صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
گر ہو میری حیات میرے اختیار میں، صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
اس دور پر خطر میں ہیں دشوار منزلیں
مولا اس امتحان میں دل کو سکون دے
روزہ نماز حق کے مناسک ادا کریں
ہم شام کربلا کی زیارت کو جا سکیں
زیارت کو جا سکیں
آ جائے گا قرار دل بے قرار میں
صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
گر ہو میری حیات میرے اختیار میں، صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
خود کش ہیں بم دھماکے حد ظلم و جور ہے
کچھ سامنے ہے اور پس منظر کچھ اور ہے
ابھی یزیدیت کے مظالم کا طور ہے
گرچہ یہ مومنین پہ مشکل کا دور ہے
مشکل کا دور ہے
دنیا کے درد و غم ہیں بھلا کس شمار میں
صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
گر ہو میری حیات میرے اختیار میں، صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
اہل عزا کو جرات و تدبیر چاہیے
دیکھا ہے خواب خواب کی تعبیر چاہیے
تسکین قلب مادر شبیر چاہیے
اب جنت البقیع کی تعمیر چاہیے
تعمیر چاہیے
آ جائے گی بہار اس اجڑے دیار میں
صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
گر ہو میری حیات میرے اختیار میں، صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
الفاظ سے دلوں پہ حکومت ملی مجھے
مظلومی حسین سے طاقت ملی مجھے
منبر ملا حسین کا عزت ملی مجھے
بدلے میں ایک اشک کے جنت ملی مجھے
جنت ملی مجھے
گھاٹا کبھی ہوا نہیں اس کاروبار میں
صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
گر ہو میری حیات میرے اختیار میں، صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
در پر تمہارے ہوتے ہیں ہر روز معجزے
کتنے امیر ہو گئے اس در کی بھیک سے
سب اپنے اپنے حصے کی خیرات لے گئے
ذکر امام عصر میں حصہ قمر ملے
حصہ قمر ملے
میں مطمئن ہوں میں بھی کھڑا ہوں قطار میں
صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
گر ہو میری حیات میرے اختیار میں، صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
صدیاں گزار دوں گا تیرے انتظار میں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.