Amal se apne
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
کرے نبی و علی کی مدحت کہاں کسی کم نسل کی قسمت
جو ان کی عظمت کو جانتے ہیں وہی تو گن ان کے گا رہے ہیں
جو اپنے کردار میں مجاہد تھے سبط جعفر علی کے نوکر
اسی لیے درجۂ شہادت امام ان کو دلا رہے ہیں
جو پاک طینت ہے اصل اپنی عمل سے اپنے بتا رہے ہیں
ولا کی محفل سجا رہے ہیں صف عزا کی بچھا رہے ہیں
کرے نبی و علی کی مدحت کہاں کسی کم نسل کی قسمت
جو ان کی عظمت کو جانتے ہیں وہی تو گن ان کے گا رہے ہیں
جو ان کے گرد سفر بنے تھے جو ان کے قدموں سے مس ہوئے تھے
وہ سارے ذرے ستارے بن بن کے عرش پہ جگمگا رہے ہیں
ظہور کی تھی جنہیں تمنا صفیں وہ اپنی درست کرنے ہمیشہ جن کو پکارتے ہیں
وہ آنے والے تھے آ رہے ہیں سجی ہے محفل جو عرش اولی پہ سید زین عابدین کی
تو سبط جعفر کو سب ملائک پئے دعوت بلا رہے ہیں
جو اپنے کردار میں مجاہد تھے سبط جعفر علی کے نوکر
اسی لیے درجۂ شہادت امام ان کو دلا رہے ہیں
تیری جدائی کا غم ہے لیکن تیری ہی تلقین کے مطابق
تیری ہی خاطر بصد مسرت تیری شہادت منا رہے ہیں
جو ان کے قاتل سمجھ رہے تھے کہ سلسلہ ختم ہو چکا ہے
اب ان کے بیٹے کو دیکھ کر وہ برنج و تلملا رہے ہیں
جو پوچھا مولا نے سبط جعفر ہمارے خاطر ہے کوئی تحفہ
ادب سے دو زانو بیٹھ کر وہ علی کو بستہ دکھا رہے ہیں
لحد میں آئے جو سبط جعفر تو بولے منکر نکیر باہم
سوال چھوڑو نکالو بستہ لحد میں استاد آ رہے ہیں
جو ابن احمد تھے سبط جعفر تو یہ ابوذر ہے ابن جعفر
اسی طرح سلسلہ مودت کا آل احمد چلا رہے ہیں
جو پاک طینت ہے اصل اپنی عمل سے اپنے بتا رہے ہیں
ولا کی محفل سجا رہے ہیں
صف عزا کی بچھا رہے ہیں
جو پاک طینت ہے اصل اپنی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.