Dekha hai ek khwab
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Hussain (a.s) recited by Miscellaneous
خواب سنو، سنو یہ خواب سنو
خواب سنو
سنو یہ خواب سنو
دیکھا ایک خواب کہ میں کربلا میں ہوں
جنت سے بھی حسین ہے جو ایسی فضا میں ہوں
دست قضا سے دور ہوں حد بقا میں ہوں
شامل ہوں اولیا میں صف انبیا میں ہوں
ایک نور جلوہ بار ہے ہر ایک جبیں پر
لگتا ہے آگیا ہے خدا خود زمین پر
ایک سمت انبیا کی ہے صف، ایک طرف حسین
ایک سمت ہر کمال و شرف، ایک طرف حسین
ایک سمت ہر گداے نجف، ایک طرف حسین
دونوں جہاں ایک طرف، ایک طرف حسین
کیا ہے حسین راز یہ کھولنے لگا
خاموش تھی خدائی خدا بولنے لگا
آتی تھی دم بہ دم یہی آواز کردگار
سارا جہاں ہے میری خلقت کا اعتبار
سارے نبی تمام ولی ہے میرا وقار
لیکن میرا حسین ہے تم سب میں شاہکار
یوں مرتبہ سمجھ لو شہ مشرقین کا
تم سب میرے ہو اور میں ہوں خود حسین کا
آدم سے پھر یہ بولا خدا اب یہ بات سن
میری زبان سے ذرا اپنی صفات سن
روز ازل ہوئی تھی جو واردات سن
مسجود نوریوں کی ہوئی تیری ذات سن
آدم یہ انتہا ہے تیری زیب و زین کی
جنت میں تو بھی ہوگا رعایا حسین کی
آدم کا ذکر آیا تو ابلیس آگیا
آدم کی سمت دیکھ کے وہ مسکرا دیا
پھر بولا میں لعیں ہوں کہ سجدہ نہیں کیا
جنت میں تجھ سے میں نے ہی کروائی تھی خطا
کرتا خدا جو پیش شہ مشرقین کو
ہوتا جو حکم کرتا میں سجدہ حسین کو
پھر یہ صداے رب تعالی سنائی دی
اے نوح میں نے تجھ کو بڑوں میں بڑائی دی
طوفان میں گھر کے تو نے جو میری دہائی دی
میرے کرم نے تجھ کو نجف تک رسائی دی
اے نوح تو نجی ہے نبوت کی زین ہے
تیری نجات کا بھی سفینہ حسین ہے
پھر بولا رب کہ اے میرے بندے میرے خلیل
قربانی پسر تیری عظمت کی ہے دلیل
تو ہے نبی، امام بھی ہے اے میرے وکیل
تو رہگزار عشق ہے شبیر سنگ میل
معمار خانہ کعبہ ہے یہ تیری زین ہے
لیکن یہ دیکھ کعبے کا کعبہ حسین ہے
عظمت تیری کہ تو نے بنایا ہے میرا گھر
تجھ پر ہوئی ہے آتش نمرود بے اثر
اس بات کی تو سارے زمانے کو ہے خبر
چلتے ہیں شہ کے ماتمی ہر سال آگ پر
ہر سال جلتی آگ کی فطرت بدل گئی
تجھ سے تو شہ کے ماتمی آگے نکل گئے
پھر رب کردگار نے عیسی سے یوں کہا
پیدا بغیر باپ کے میں نے تجھے کیا
مجھ کو ہے سب خبر تیری عظمت کی انتہا
پیدائشی مریضوں کو دیتا ہے تو شفا
تو ہے مسیح سارے مریضوں کا چین ہے
لیکن ملائکہ کا مسیحا حسین ہے
پھر میں نے دیکھا پھیل گئی عرش تک ضیا
صلے علی کی گونج اٹھی ہر طرف صدا
آواز آئی آتے ہیں سردار انبیا
سردار انبیا سے مخاطب ہوا خدا
تو ہے میرا حبیب میرے دل کا چین ہے
تو فخر کر کہ تیرا حوالہ حسین ہے
تو ہے میرا حبیب یہ تیرا حبیب ہے
تو خوش نصیب ہے کہ یہ تیرا نصیب ہے
کر غور یہ حسین کی عظمت عجیب ہے
سارا جہاں مریض ہے اور یہ طبیب ہے
تجھ پر سلام ہو تیری دستار ہے حسین
تیری قسم کہ میرا خریدار ہے حسین
پھر میں نے دیکھا موسی کھڑے ہیں بصد وقار
محو کلام یوں ہوا موسی سے کردگار
تو ہے میرا کلیم یہ تیرا ہے افتخار
تھا طور پر بھی تو میرے جلوے سے ہمکنار
کیا ہمسری کرے گا شہ مشرقین کی
تو سہہ سکا نہ ایک تجلی حسین کی
تو صاحب عصا سہی شبیر تو نہیں
فرعون کی قضا سہی شبیر تو نہیں
تو شان انبیا سہی شبیر تو نہیں
تو میرا ہمنوا سہی شبیر تو نہیں
تو میرے حسن ذات کا عکاس تو نہیں
ہارون تیرا بھائی ہے عباس تو نہیں
آخر میں آئی نور علی رب کی یہ صدا
یہ بات سن لو غور سے تم سارے انبیا
ہے سجدہ حسین ہی توحید کی بقا
ہے ضامن بقا شریعت یہ کربلا
قوسین پر نہ عرش علی میں ملوں گا میں
تا حشر اب تو کرب و بلا میں ملوں گا میں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.