Khandaq Ka Waqiya ( Jang E Khandaq)
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Mir Hasan Mir
خندق کا واقعہ
حیدر کی ذوالفقار کے جوہر دکھاؤں گا خندق نہ کھائیں آپ میں خندق سناؤں گا
- خندق میں دیکھنے کو مسلمان تھے بہت
ظاہر میں سب رسول پہ قربان تھے بہت ویسے تو وہ نبی کے نگہبان تھے بہت بس ابن عبد ود سے پریشان تھے بہت ہنستے تھے ان کو دیکھ کے کفار موج میں کچھ تھے احد کے بھاگنے والے بھی فوج میں
- لشکر میں ایسے مرد بھی آئے تھے بے مثال
آتا تھا صرف خیمے کے اندر انہیں جلال
کرتے تھے یاد دل میں وہ جنگ احد کا حال بھاگے تھے ایسے سانسیں ابھی تک نہ تھیں بحال
اس بار تو عجیب ہے آفت پڑی ہوئی
پیچھے ہے کھائی آگے ہے خندق کھدی ہوئی
- کہتے تھے دل ہی دل میں وہ سلمان کو برا اس نے ہمارے ساتھ یہ اچھا نہیں کیا کیوں مشورہ رسول کو خندق کا دے دیا عجمی نے انتقام یہ عربوں سے لے لیا سرکار نے سنی نہیں آخر کسی کی بات پھر آج باتوں باتوں میں رکھ لی اسی کی بات
- گزرے ہیں چار سال ہی اس بات کو ابھی لائے تھے پہلی بار اسے بزم میں علی اب جتنا یہ قریب ہے اتنا نہیں کوئی اور آج تو حدیث بھی ارشاد ہو گئی واقف ازل سے ہے یہ ہمارے مزاج سے سلمان اہلبیت میں شامل ہے آج سے
- کہتے تھے بیس روز سے یہ تیس مار خاں کچھ ہیں پرانے دوست بھی آئے ہوئے یہاں آپس میں اچھی بات نہیں ہیں لڑائیاں کچھ تو کریں خیال ہمارا شہ زماں ایسا نہ ہو کہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.