Dar E Ghazi(as)
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
جنت در غازی سے زیادہ تو نہیں ہے
ہے عشق یہ، نقصان کا سودا تو نہیں ہے
کس در پہ قطاروں میں کھڑے ہیں یہ فرشتے
جبریل یہ عباس کا روضہ تو نہیں ہے
کیا مشک سکینہ میں اٹھا لے گئے عباس
ساحل پہ فقط ریت ہے دریا تو نہیں ہے
کٹ کٹ کے گرا جاتا ہے کیوں شام کا لشکر
غازی نے ابھی دیکھا ہے مارا تو نہیں ہے
فرعون نہ بن اب بھی مدد لے لے جری سے
تو ڈوب رہا ہے ابھی ڈوبا تو نہیں ہے
ماہ بنی ہاشم نظر آتا نہیں تجھ کو
تو عقل کے اندھے کہیں اندھا تو نہیں ہے
آپس میں یہ ڈر ڈر کے لعین پوچھ رہے تھے
عباس کا لڑنے کا ارادہ تو نہیں ہے
ہر سال میری ماں یہی کہتی رہی مجھ سے
ماتم ابھی زنجیر کا ویسا تو نہیں ہے
عباس نے سینے سے لگایا ہے تجھے حر
اب اور کوئی دل میں تمنا تو نہیں ہے
موسی بڑی اونچائی پہ ہے طور تمہارا
لیکن در عباس سے اونچا تو نہیں ہے
آتا ہے یہ جب گھر میں تو اٹھ جاتے ہیں سجاد
یہ حضرت عباس کا بیٹا تو نہیں ہے
جو بھول گیا حرمت عباس کو سجاد
کوئی میرا اپنا بھی اگر تھا تو نہیں ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.