Mujhko maanga gaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Safdar Abbas
بین کرتی تھی شاہ کی دختر
مجھکو مانگا گیا کنیزی میں
میری غیرت بھی رو پڑی سن کر
مجھکو مانگا گیا کنیزی میں
کتنے غم آے سہہ لیےء میں نے
اپنے بندیں بھی دے دیےء میں نے
ساتویں سے نہیں ملا پانی
اشک آنکھوں کے پی لیےء میں نے
ہاں مگر یہ ستم سہوں کیوں کر
مجھکو مانگا گیا۔۔۔
شام میں در بدر پھری ہوں میں
اور طمانچے بھی کھا رہی ہوں میں
کل تو بابا کے دل کا ٹکڑا تھی
آج قیدی بنی ہوی ہوں میں
اک نیا زخم یہ لگا دل پر
مجھکو مانگا گیا۔۔۔
بے خطاؤں کو کیوں ستاتے ہیں
کیوں اسیروں پہ ظلم ڈھاتے ہیں
حکمراں جس قدر بھی ظالم ہو
چھوٹے بچوں پہ رحم کھاتے ہیں
کیوں تمہارے ہوے ہیں دل پتھر
مجھکو مانگا گیا۔۔۔
دی سکینہ نے یہ صدا بابا
امتحاں ہے کہ یہ سزا بابا
کونسا بغض ہے لعینوں کو
اک یتیمہ پہ یہ جفا بابا
حال دیکھو زرا میرا آ کر
مجھکو مانگا گیا۔۔۔
ایسی دیکھی نہیں زمیں کوئی
رحم کھاتا نہیں لعیں کوئی
شام کے تخت پر جو بیٹھا ہے
اس سے بڑھ کر نہیں شقی کوئی
اس ستم سے تو موت ہے بہتر
مجھکو مانگا گیا۔۔۔
شام غربت کے بعد ہاں بابا
ہے مسلسل یہ سختیاں بابا
نہ رکا خون میرے کانوں سے
نہ رکی ہے میری فغاں بابا
اور اس پر ستم یہاں آ کر
مجھکو مانگا گیا۔۔۔
ہے یتیمہ کا حق یہی صفدر
بین روتے ہوئے لکھے مظہر
چھوٹی زہرا یہ بین کرتی تھی
میرے دادا ہیں شافع محشر
انکو بتلاؤں گی میں رو رو کر
مجھکو مانگا گیا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.