Ghadeer Yaad Rahay
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Ghadeer recited by Mir Hasan Mir
آج خیر کثیر کا دن ہے
یہ جناب امیر کا دن ہے
آج ہر با ضمیر کا دن ہے
یہ انیس و دبیر کا دن ہے
امیر بس ہیں جناب امیر یاد رہے
سنو سنو یہ صدائے فقیر یاد رہے
غدیر یاد رہے غدیر یاد رہے
سفر میں رک کے نبی نے یہ حاجیوں سے کہا
ہمارے بعد خدا کا وزیر یاد رہے
یہ عید فطر کا عید الاضحی کا کہنا ہے
مزہ تو تب ہے کہ عید کبیر یاد رہے
اسی لیے تو ہے خیر العمل اذانوں میں
جہاں کو مقصد رب قدیر یاد رہے
آئے ہیں رند باندھ کے احرام ساقیا
بیٹھے ہوئے ہیں لے کے تیرا نام ساقیا
ٹھہری ہوئی ہے گردش ایام ساقیا
بس ہو چکی نماز جو تھا جام ساقیا
ہم سب شریف رند ہیں بیت الشرف سے لا
ملتی نہیں حرم میں تو جا کر نجف سے لا
جو پی تھی خم میں شراب غدیر یاد رہے
ملا جلا کے یہ مفہوم الغدیر کا ہے
میرے جوانوں کو قنبر کا پیر یاد رہے
یہ حال دیکھ کے حارث کا کہتے تھے سلمان
اے منکران علی یہ شریر یاد رہے
بٹھاؤں حافظ قرآن کو سر آنکھوں پر
اسے صحیح جو نبی کا وزیر یاد رہے
کہا ہے آ کے یہ جبریل نے تکلم سے
ذرا مزاج انیس و دبیر یاد رہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.