Magar Fatima Fatima Hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Mir Hasan Mir
یا فاطمہ یا فاطمہ
فاطمہ، فاطمہ فاطمہ، فاطمہ
فاطمہ فاطمہ
فاطمہ فاطمہ
ہر نبی حجت کبریا ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
ذکر قرآن
ذکر قرآن میں سب کا ہوا ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
پنجتن کو بنا کر خدا نے کہا
ہے مجسم مشیت میری مصطفی
میری مرضی کا مالک علی مرتضی
میری قدرت، حسین و حسن فاطمہ
خلق پانچوں
خلق پانچوں کو میں نے کیا ہے
مگر
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
تجھ پہ کھل جائے گا پڑھ حدیث کسا
کس طرح پنجتن کا تعارف ہوا
رب نے ثابت یہ ہم فاطمہ سے کیا
ایک ہی ذات ہے مرکز انما
خود محمد ہاں
خود محمد بھی زیر کسا ہے
مگر
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
فاطمہ، فاطمہ فاطمہ، فاطمہ
یا فاطمہ
ایک کی خاطر حرم کو سجایا گیا
ایک کے حجرے کو قبلہ بنایا گیا
ایک کے بیٹے مصلے پہ آتے رہے
ایک کو کعبے کے اندر بلایا گیا
ام حیدر ہاں
ام حیدر بھی ایک فاطمہ ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
سامرہ سے یہی آ رہی ہے صدا
لیلۃ القدر کو کون سمجھے بھلا
سارے معصوم ہیں حجت کبریا
حجتوں کی ہے حجت مگر فاطمہ
ہم میں ہر ایک
ہم میں ہر ایک حجاب خدا ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
ہر نبی حجت کبریا ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
میں تقابل کروں کب یہ اوقات ہے
ہر حقیقت، حقیقت کا اثبات ہے
صرف ام ابیہا وہ ایک ذات ہے
ماں محمد کی ہونا بڑی بات ہے
بالیقیں ہاں
بالیقیں آمنہ، آمنہ ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
آگئی فاطمہ آگئی فاطمہ
جبرئیل امیں دے رہے ہیں صدا
آگئی فاطمہ آگئی فاطمہ
آگئی فاطمہ آگئی فاطمہ
آج خوش ہے
آج خوش ہے بہت اشرف الانبیاء
آگئی فاطمہ آگئی فاطمہ
فاطمہ فاطمہ فاطمہ فاطمہ
گر کے قدموں پہ شہ کی وہ کہتا رہا
اے غفور الرحیم، اے شہ کربلا
تیرا مجرم تیرے روبرو آگیا
شہ نے سینے سے حر کو لگا کر کہا
جرم تیرا بہت ہی بڑا ہے
مگر
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
لعنتیں کر رہے ہو ابھی تک وصول
کیا ہوا ظلم سے تم کو حاصل حصول
ان کی عظمت نہ کی تم نے دل سے قبول
ظالمو پھر بھی باقی ہے نام بتول
تم نے کرنا ہاں
تم نے کرنا تھا جو کر دیا ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
میری مٹھی میں باگیں ہیں کونین کی
تیرے ہاتھوں میں نبضیں ہیں دارین کی
کن تجلی تیرے نام کے عین کی
تیری محکوم مادر ہے حسنین کی
یا علی
یا علی تیرا رتبہ سوا ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
یا فاطمہ
عمر سے کم نہیں ہوتی عظمت کبھی
ایک بچی سے اس کی سند ہے ملی
اپنی دادی کی مانند ہے وہ جری
کمسنی میں وہ شاہی الٹ کر رہی
سن بظاہر
سن بظاہر سکینہ کا کیا ہے؟
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
یا فاطمہ
بولے فضہ سے قنبر ذرا غور کر
میرے مولا میں ہیں سب خدا کے ہنر
راات بھر مدح حیدر وہ کرتا رہا
وجد طاری تھا فضہ پہ اس دم مگر
اس نے سب ہاں
اس نے سب مان کر بھی کہا ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
شہنشاہی سے بھی قیمتی ہے
حبش کو چھوڑ کر
اس سے منہ موڑ کر
سیدہ کی
یہ جو فضہ نے کی نوکری ہے
شہنشاہی سے بھی قیمتی ہے
دہر میں دیکھ لو ہر جگہ پر
بہت مشہور ان کی وفا ہے
ایک ہے عباس، اور ایک ہے فضہ
فرق ان میں بھلا کون سا ہے
مجھ سے پوچھو تو
مجھ سے پوچھو تو فرق وفا کا
ایک ہے چاند اور ایک چاندنی ہے
فاطمہ فاطمہ فاطمہ فاطمہ
لاکھ مانا گنہگار ہے آدمی
ہے عزادار کی حامی بنت نبی
فاطمہ کے تکلم ہیں معنی یہی
ہم کو دوزخ میں جانے نہ دیں گی کبھی
گرچہ عصیاں
گرچہ عصیاں سے دامن بھرا ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
مگر فاطمہ، فاطمہ ہے
فاطمہ فاطمہ فاطمہ فاطمہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.