Ayyo Hannas Dil e Haider e Karrar Hon Main
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
ایھالناس دل حیدر کرار ہوں میں
سب میرے سامنے مجبور ہیں مختار ہوں میں
سورما صف شکن و غازی و جرار ہوں میں
عالم زر سے کسی فوج کا سالار ہوں میں
اسد اللہ کا عکس مجھے کہتے ہیں
شیر ہوں اس لیے عباس مجھے کہتے ہیں
آرزو ہے تو کوئی حرف دعا ہے لیکن
جو بھی مٹھی ہے وہ سچا ہے کھرا ہے لیکن
کوئی موسی کوئی ہارون وفا ہے لیکن
کنز معبود نگینوں سے بھرا ہے لیکن
کل ایمان امام ازلی نے مانگا
میں اکیلا ہوں جسے رب سے علی نے مانگا
الغرض بہر مناجات اٹھے دست خدا
سج گئی بولتے قرآن کے ہونٹوں پہ دعا
رخ تاریخ اخوت پہ چڑھا رنگ وفا
بیت مولود حرم دیکھ کے قدرت نے کہا
اب غرور شب تاریک ذرا ماند بھی ہو
بارہ سورج ہیں جب اس گھر میں تو اک چاند بھی ہو
راہ مشکل ہو تو آسان بنا دیتا ہوں
خار زاروں کو گلستان بنا دیتا ہوں
حرف رسوا ہو تو ذیشان بنا دیتا ہوں
میں بھکاری کو بھی سلطان بنا دیتا ہوں
اپنے آقا کے گلستان کا گل تازہ ہوں
وہ اگر شہر سخاوت ہیں میں دروازہ ہوں
کیا کہا شاہ ابوذر سے ملے گا کہ نہیں
آپ کوزے کو سمندر سے ملے گا کہ نہیں
نور کچھ مہر منور سے ملے گا کہ نہیں
سوچتے ہو کہ میرے گھر سے ملے گا کہ نہیں
شب کے پھندے میں گلا ڈال دیا جھول گئے
کیا میرا باب الحوائج کا لقب بھول گئے
کوئی زر کوئی گوہر کوئی ردا مانگتا ہے
یہ زمانہ مجھے دے دے کہ صدا مانگتا ہے
یوں تو ہر لہجہ بیمار شفا مانگتا ہے
آکے کافر کوئی جب مجھ سے دعا مانگتا ہے
پیش رب کلمہ توحید پڑھا دیتا ہوں
میں دعاؤں کو مسلمان بنا دیتا ہوں
ہے شجر ایک مرادوں کے ثمر بارہ ہیں
ہے صدف ایک طہارت کے گوہر بارہ ہیں
آسمان ایک امامت کے قمر بارہ ہیں
ایک ہے اہل نظر نور نظر بارہ ہیں
بارہ انوار امامت کا جو اک غالب ہے
میں بھی پوتا ہوں اسی کا جو ابو طالب ہے
چھوٹے بھائی کو لڑنے کی اجازت دے دو
تیغ بسمل کو کلائی کی اجازت دے دو
فوج باطل کی صفائی کی اجازت دے دو
آج کے دن تو لڑائی کی اجازت دے دو
حسرت تیغ پہ کھا کھا کے ترس کاٹتے ہیں
اسی دن کے لیے بتیس برس کاٹتے ہیں
صاحب مشک و علم خیمے سے بے تیغ چلا
پھر بھی جبریل نے شہپر کے لیے ورد پڑھا
ڈر سے خاموش ہوا اور بھی کچھ دل دھڑکا
جب ملی شیر کی آہٹ تو پکارا دریا
راہ تکتا تھا میں جس کی وہی سالک آیا
غاصبوں گھاٹ سے بھاگو میرا مالک آیا
چپ ہوئی نہر تو عباس کی گونجی آواز
بندہ خاص اسی کا ہوں جو ہے بندہ نواز
اپنے ہی خون سے وضو کرکے بصد عجز و نیاز
مجھ کو پڑھنا ہے سکینہ کی محبت کی نماز
میری جانب سے شہادت کو زبان دے دی ہے
علی اکبر نے سویرے ہی اذان دے دی ہے
آسمان تک جو گئی شیر نیستاں کی پکار
ملک الموت نے گھبرا کے کہا جی سرکار
لہجہ غیظ میں بولا یہ حسینی جرار
سن رہے ہو جو ترائی پہ ہے شور اشرار
دشمنی میں یہ کئی روز سے بل کھاتے ہیں
جاؤ دریا پہ خبر کردو کہ ہم آتے ہیں
پہرے داروں کی صدا تھی کہ ترائی چھوڑو
اپنے بس میں نہیں ہرگز یہ لڑائی چھوڑو
اب یہ فریاد یہ گریہ یہ دہائی چھوڑو
وقت ہے بھاگ نکلنے کا کلائی چھوڑو
غیظ میں آکے جو تلوار چلا دیتا ہے
یہ پرندوں کی طرح سر کو اڑا دیتا ہے
شیر بولا کہ ہلاکت کے نشان تک بھاگو
تم خیالوں کے مسافر ہو گمان تک بھاگو
بھاگ سکتے ہو جہاں تک بھی وہاں تک بھاگو
شام سے آئے ہو ہندہ کے مکان تک بھاگو
موت کی راہ و روش کھینچ کے لے آئی ہے
تم کو نیزے کی کشش کھینچ کے لے آئی ہے
غم سفیان کے دلاسے ہو کہاں جاتے ہو
جانے کتنوں کی خطا سے ہو کہاں جاتے ہو
تم تو ہندہ کے نواسے ہو کہاں جاتے ہو
بدر کے روز سے پیاسے ہو کہاں جاتے ہو
کاسہ لفظ ہلاکت سے پانی پی لو
خون کے پیاسوں میری تلوار سے پانی پی لو
شمر بزدل سے پہ جور مانگا اور مانگا
دیر کس بات کی فی الفور مانگا اور مانگا
اپنے انجام پہ کر غور مانگا اور مانگا
مجھ سے لڑنا ہے تو فوج اور مانگا اور مانگا
اشہب زیرک و ہوشیار کچل ڈالے گا
اتنا لشکر میرا راہوار کچل ڈالے گا
ہے میرے وار کی رفتار ہوا کو معلوم
خادمہ تیغ علی ہے میرے حملے مخدوم
سبھی جرات کی صفوں میں ہے ازل سے میری دھوم
جسم جب ہونے لگیں گے ابھی جاں سے محروم
ہر شجاعت کے دھنی ابن ولی آئے ہیں
تم یہ کہتے ہوئے بھاگو گے علی آئے ہیں
اپنے دل میں ہے جواں فتح خیبر کی امنگ
سنگ کو موم کریں ہم تو کبھی موم کو سنگ
زندگی لمحوں میں بے دینوں پہ ہوجائے گی تنگ
بھول جاؤ گے ابھی رستم و سہراب کی جنگ
ہم جو تلوار کے قبضے میں کلائی دیں گے
ان کے اجداد بھی قبروں سے دہائی دیں گے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.