Jis ka Nahi Ghadeer Pe Emaan Ya Ali
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Ghadeer recited by Mir Hasan Mir
جس کا نہیں غدیر پہ ایمان یا علی
کیسے میں اس کو مانوں مسلمان یا علی
وہ جو ہوا تھا برسر میدان یا علی
بہروں نے بھی سنا تھا وہ اعلان یا علی
اٹھا وہ کہہ کے لاش سلمان یا علی
نکلے گی کیسے ایسے میری جان یا علی
اللہ سرفراز رکھے ان کو تا ابد
ہم آج جن کے گھر میں ہیں مہمان یا علی
دشمن ہے تیرا جو بھی وہ ابن کثیر ہے
تیرے لیے نبی کا ہے فرمان یا علی
قدموں میں ہیں پڑے ہوئے جس کے تمام تاج
ہیں آپ اس حسین کے سلطان یا علی
خوشبو نجف کی آتی اس سر زمین سے
جاتا ہوں جب میں شہر خراسان یا علی
میدان سے بھاگ جانے کا جن کا پلان تھا
قنبر نے ان سے لے لیے پارن یا علی
سلمان بولے منبر پالان دیکھ کر
ایسا کہاں تھا تخت سلیمان یا علی
ٹھنڈا کیا ہے آپ کا دل جس نے میں اسے
کرنے سلام جاؤں گا کاشان یا علی
کوثر کی آیتیں تیری زوجہ کی رخصتی
زہرا ہے تیرا سورہ رحمان یا علی
خنجر اٹھائے ہاتھ میں قاتل ہے بد حواس
میثم نہیں ذرا بھی پریشان یا علی
آدم سے تا بہ عیسی ہیں سب ہی قطار میں
رکھ لے ہمیں کہیں پہ بھی درماں یا علی
دوش رسول پاک پہ پھر جلوہ گر ہوں آپ
پھر توڑنے ہیں کون سے بھگوان یا علی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.