Mujhe baba ka sar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Shadman Raza
بھیا سجاد
یہ میری آخری شب ہے سکینہ نے کہا بھیا
مجھے بابا کا سر لا دو
سقی کے لال ہو یہ آخری خواہش نہ رد کرنا
تمہارے گھر کا شیوہ غریبوں کی مدد کرنا
سوالی ہے جلے دامن کو پھیلاے ہوے دکھیا
مجھے بابا کا سر لا دو
یہ میری آخری شب ہے۔۔۔
پدر کے بعد بیٹی کا طمانچوں پر گزارا ہے
بتاؤں گی انہیں شمر لعیں نے کیسے مارا ہے
زرا نزدیک سے آ کر وہ میرا دیکھلے چہرہ
مجھے بابا کا سر لا دو
یہ میری آخری شب ہے۔۔۔
عجب حالت میں دیکھا تھا سر دربار بابا کو
نہیں پانی میسر قید خانے میں سکینہ کو
میں اپنے آنسوؤں سے دھوؤں گی مظلوم کا چہرہ
مجھے بابا کا سر لا دو
یہ میری آخری شب ہے۔۔۔
میں روی جب پدر کو شمر نے بدلہ لیا تم سے
قسم ہے مجھکو بابا کی میرا وعدہ رہا تم سے
سکینہ نہ اب نہ روے گی نہ اب کھاؤ گے تم درہ
مجھے بابا کا سر لا دو
یہ میری آخری شب ہے۔۔۔
زباں ہے خشک اتنی بات کرنا مجھ پہ بھاری ہے
تمہیں معلوم ہے بھای سکینہ کب سے پیاسی ہے
مگر کرتی نہیں دکھیا تقاضہ تم سے پانی کا
مجھے بابا کا سر لا دو
یہ میری آخری شب ہے۔۔۔
پدر کا دیکھ کر چہرہ صدا بیدار ہوتی تھی
شب عاشور تک انکی زیارت کر کے سوتی تھی
زرا دیکھو ان آنکھوں نے انہیں کب سے نہیں دیکھا
مجھے بابا کا سر لا دو
یہ میری آخری شب ہے۔۔۔
پریشاں ہو اگر کوئی تسلی دیتے جاتے ہیں
سنا ہے مرتے دم اپنوں سے ملنے کو وہ آتے ہیں
ہے مجھ پہ نزع کا عالم چلی میں چھوڑ کر دنیا
مجھے بابا کا سر لا دو
یہ میری آخری شب ہے۔۔۔
تکلم سر جب آیا قید خانے میں قیامت تھی
ادھوری رہ گیء باتیں ہوی خاموش شہزادی
فضا میں گونجتا ہے شادماں اب تک یہی نوحہ
مجھے بابا کا سر لا دو
یہ میری آخری شب ہے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.