Khaybar ka maajra suno
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Mir Hasan Mir
صاحب ناد علی غیر فرار علی
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
خیبر کی کارزار کا منظر سناتا ہوں
جبریل ساتھ دو میرا خیبر سناتا ہوں
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
خیبر کی جنگ اب بھی ہے دنیا میں یادگار
چالیس دن طویل ہوئی ہے یہ کارزار
خود ساختہ رسول کے تھے جتنے جان نثار
میدان چھوڑ چھوڑ کے ہوتے رہے فرار
لشکر میں مسلموں کے عجیب انتشار تھا
ہر ایک کے دماغ میں مرحب سوار تھا
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
ہنستی تھی موت دیکھ کے ہر روز معرکہ
مصروف بھاگ دوڑ میں تھے سارے سورما
وہ جنگ تھی کہ جنگ بھی شرمائی زار زار
چالیس دن میں ایک بھی زخمی نہیں ہوا
مرحب جو پوچھتا تھا لڑو گے ابھی یہیں
تیغیں چھپا کے کہتے تھے سارے نہیں نہیں
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
لشکر کی ابتری پہ یہ کہنے لگے نبی
گھبراؤ مت لڑائی کی یہ شب ہے آخری
اب کل جو مرد ہوگا علم پائے گا وہی
در پردہ تھا نبی کے لبوں پر علی علی
یعنی علم الف سے یہ لشکر اٹھائے گا
جو غیب سے علم ہے وہ حیدر اٹھائے گا
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
ماضی سے اپنا پیچھا چھڑاتے ہیں اس لیے
अपना ہدف علم کو بناتے ہیں کس لیے
پنجے کی سمت انگلی اٹھاتے ہیں کس لیے
اب سمجھے ہم علم وہ جلاتے ہیں کس لیے
ان کے بڑوں کو حق سے یہ منصب ملا نہیں
خیبر کا زخم ہے جو ابھی تک بھرا نہیں
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
ہر ایک کو شک تھا میرا ہی لیں گے رسول نام
جاگے ہوئے تھے رات کے آنکھیں تھیں سرخ فام
جو چھوٹے قد تھے پنجوں کے بل تھے کھڑے تمام
اتنے میں لائے عرش سے جبرائیل یہ پیام
لشکر نہ کر سکے گا تمہاری کوئی مدد
اللہ کہہ رہا ہے کہو یا علی مدد
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
ناد علی زبان محمد پہ آ گئی
اور اس طرف مدینے میں کہنے لگے علی
قنبر چلو پکار رہے ہیں ہمیں نبی
دلدل کو پیار کر کے یہ فرمایا اس گھڑی
آج اس طرح سے چل کہ فلک کانپنے لگے
دوڑے تو تیرے ساتھ ہوا ہانپنے لگے
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
جیسا کہا تھا بادشاہ خاص و عام نے
ویسا کیا ہے دلدل محشر قیام نے
حیرت سے دیکھا لشکر خیر الانام نے
شیر خدا کھڑے تھے محمد کے سامنے
ہر چہرے پہ سوال تھا حضرت کہاں سے آئے
سلمان بولے آج علی آسمان سے آئے
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
حق سے علم ملا سوئے خیبر علی چلے
چومی رکاب فتح نے آکر علی چلے
دین خدا کا بن کے مقدر علی چلے
لشکر چلا زمین پہ ہوا پر علی چلے
آیا ہے پھر جلال امام مبین کو
جبرائیل جلدی تھام لو آکر زمین کو
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
حجت مریض موت پہ حجت نے کی تمام
ایک فقرے میں سمیٹ دیا مقصد کلام
حیدر ہماری ماں نے رکھا ہے ہمارا نام
ہوشیار ذوالفقار ہوئی میری بے نیام
شمشیر ابوتراب کی سن سے پہنچ گئی
مرحب کے سر پہ موت سے پہلے پہنچ گئی
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
سر سے چلی تو سینے پہ آکر ٹھہر گئی
سینے پہ سانس لے کے جگر میں اتر گئی
نکلی جگر کو کاٹ کے تا بہ کمر گئی
تھی مٹھ پیچھے پیچھے یہ بجلی جدھر گئی
کٹ کر عدو دین خدا خاک پہ گرا
آدھا ادھر زمین پہ آدھا ادھر گرا
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
جاتا ہے کس شکوہ سے اللہ کا اسد
خیبر کا در اکھاڑنے تنہا بشد دو مد
پہنچا قریب در جو وہ بندہ احد
بے ساختہ علی نے کہا یا علی مدد
ایسے اکھاڑا لمحے میں خیبر کے باب کو
جس طرح شاخ سے کوئی توڑے گلاب کو
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
تقسیم سب میں مال غنیمت کیا گیا
حیدر کو حصہ سب سے زیادہ دیا گیا
اس امر پر سوال نبی سے کیا گیا
کیوں عدل سے نہ کام یہاں پر لیا گیا
بولے رسول دخل نہیں تجھ جیسے فرد کو
دیتے ہیں حصہ دوگنا شریعت میں مرد کو
سنو سنو سنو سنو خیبر کا ماجرا سنو
اللہ رے سخاوت مشکل کشا علی
ایسا کہاں ہے میر تکلم کوئی سخی
دولت بنام مال غنیمت جو تھی ملی
خیرات کر دی راہ خدا میں خوشی خوشی
دہلیز در پہ پہنچے تو سلمان تو ساتھ تھے
لب پر خدا کا شکر تھا اور خالی ہاتھ تھے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.