Meri sakina ko neend
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Raza Abbas Zaidi
بانو یہ عابد کو بتلا رہی ہے
میری سکینہ کو نیند آ رہی ہے
کہدو ہواؤں سے آہستہ آئیں
کہدو پرندوں سے غُل نہ مچائیں
کہدو اندھیروں سے واپس نہ جائیں
جاگی ہوئی چین کچھ پا رہی ہے
میری سکینہ کو نیند ۔۔۔
شاید رسن کی اذیت ہوئی کم
مدھم کرو بیبیوں شورِ ماتم
سجاد زنجیر بولے نہ اس دم
شاید غموں کی گھڑی جا رہی ہے
میری سکینہ کو نیند ۔۔۔
زندان کا در زور سے اب نہ کھولو
اے پہرہ دارو اب آہستہ بولو
تم بھی تو جاگے ہو کچھ دیر سو لو
بابا کی خوشبو اسے آ رہی ہے
میری سکینہ کو نیند ۔۔۔
کہ اب دھڑکنِ دل بھی اس پہ گراں ہے
نہ بھائی ہے نزدیک نہ اس کے ماں ہے
کانوں سے خون گو کےاب بھی رواں ہے
مگر آنکھ بوجھل یہ سمجھا رہی ہے
میری سکینہ کو نیند ۔۔۔
یہ شامِ غریباں کی جاگی ہوئی ہے
طمانچوں کے ڈر سے نہیں سو سکی ہے
ذرا اب گلے سے رسن جو کھُلی ہے
سکوں سے جو اب سانس لے پا رہی ہے
میری سکینہ کو نیند ۔۔۔
میں خوش ہوں کے سوئے گی میری دُلاری
میں قربان اس کے میں اب اس کے واری
بہت سہہ چُکی دُکھ یہ غازی کی پیاری
مگر نبض کچھ اور بتلا رہی ہے
میری سکینہ کو نیند ۔۔۔
مگر یہ ہوا کیا کے زندان رویا
بدن روح کے ساتھ بچی کا سویا
نہ جاگی وہ عابد نے شانہ ہلایا
اور اب ماں یہ کہتے بھی شرما رہی ہے
میری سکینہ کو نیند ۔۔۔
کہاں تک لکھوں گا میں ریحان نوحہ
کبھی شام جاؤں تو دیکھوں وہ روضہ
جہاں قیدی بچی کا مرقد ہے تنہا
جہاں ماں ابھی بھی کہے جا رہی ہے
میری سکینہ کو نیند ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.