Teri Kya baat hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Mir Hasan Mir
تیری کیا بات ہے
سن کے زینب کے خطبات دربار میں بولے شاہ زماں
تیری کیا بات ہے
لاجرکھ لی ہے تو نے بڑے بھائی کی
میری چھوٹی بہن تیری کیا بات ہے
سن کے زینب کے خطبات
) ٹھیک سے کوئی لیتا نہ نام خدا
گر نہ ہوتی بپا دہر میں کربلا
اور زندہ رکھی تو نے وہ کربلا
بنت خیبر شکن تیری کیا بات ہے
سن کے زینب کے خطبات
) غیر کے ذکر پر تلملاتا ہے تو
ذکر حیدر پہ بس مسکراتا ہے تو
دھیان رکھتا ہے تو میرے جذبات کا
میرے مولائی من تیری کیا بات ہے
سن کے زینب کے خطبات
) آسمانوں سے اتری ہے میری طرح
تیری خلقت بھی نوری ہے میری طرح
فاطمہ نے کہا ذوالفقار علی
میری چھوٹی بہن تیری کیا بات ہے
سن کے زینب کے خطبات
) تجھ کو آکر سلامی ستارے نے دی
تیری جیسی کسی کی نہ شادی ہوئی
عقد تیرا خدا نے پڑھا عرش پر
مرتضی کی دلہن تیری کیا بات ہے
) (یوں بھی محبوب رکھتے ہیں تجھ کو نبی
تو نے پہلی گواہی ولایت کی دی،)-
تجھ کو حاصل ہے ہیروں پہ یوں برتری
اے عقیق یمن تیری کیا بات ہے
سن کے زینب کے خطبات
) (اپنے شوہر کو مرنے سے روکا نہیں
کس طرح سے جیوں گی یہ سوچا نہیں،)-
تیری ہمت تیرے حوصلے کو سلام
اے وہب کی دلہن تیری کیا بات ہے
سن کے زینب کے خطبات
) (ایسا بے لفظ اصغر نے خطبہ دیا
جس کی ہیبت سے میداں لرزنے لگا)-
میر سجاد خالق کی آئی صدا
اے خدائے سخن تیری کیا بات ہے
تیری کیا بات ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.