Hussain ghaiz mein hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mir Hasan Mir
حسین حسین
آج میدان میں حسین ابن علی غیظ میں ہے
فاطمہ غیظ میں ہے، حق کے ولی غیظ میں ہے
ساتھ شبیر کے جتنے ہیں سبھی غیظ میں ہے
ایسا لگتا ہے سوا لاکھ نبی غیظ میں ہے
اپنی تلوار سے بازی یہ پلٹ دے گا حسین
آج میدان کو جہنم میں الٹ دے گا حسین
الحفیظ و الاماں
حسین غیظ میں ہے
آج میدان میں حسین ابن علی غیظ میں ہے
فاطمہ غیظ میں ہے، حق کے ولی غیظ میں ہے
ساتھ شبیر کے جتنے ہیں سبھی غیظ میں ہے
ایسا لگتا ہے سوا لاکھ نبی غیظ میں ہے
اپنی تلوار سے بازی یہ پلٹ دے گا حسین
آج میدان کو جہنم میں الٹ دے گا حسین
حسین غیظ میں ہے
فیصلہ کن میرے مولا کی لڑائی ہوگی
خون میں تر ابھی دریا کی ترائی ہوگی
موت کے سر پہ گھٹا موت کی چھائی ہوگی
ایسے میدان میں ہر صف کی صفائی ہوگی
دیں گے کوفے میں خبر بھاگ کے جانے والے
بھاگو بھاگو یہاں شبیر ہیں آنے والے
حسین غیظ میں ہے
ابھی کھل جائے گا شبیر اکیلے کیا ہے
فاطمی شیر کے آگے یہ درندے کیا ہے
سامنے قامت توحید کے بونے کیا ہے
شام کے سورما اپنے کو سمجھتے کیا ہے
ہوگا اس شان سے حملہ اسد طالب کا
کلمہ پڑھ پڑھ کے مریں گے یہ ابو طالب کا
حسین غیظ میں ہے
ہوگئی جنگ پہ آمادہ خدا کی قدرت
غیظ کو دے کے جگہ ہٹ گئی پیچھے رحمت
پیار سے بات کی لیکن نہیں سمجھی امت
چھ مہینے سے بہت شور تھا بیعت بیعت
تیغ کچھ دیر میں جب ابن علی کھولے گا
کوئی بیعت تو کجا بے بھی نہیں بولے گا
حسین غیظ میں ہے
آستینوں کو الٹتے ہیں حسین ابن علی
مرتجز سے یہاں شمشیر علی کی بولی
ساتھ دینا ہے تجھے میرا اے رہوار نبی
آخری جنگ ہے یہ قبل ظہور مہدی
آج ہر منکر مولا کو جکڑنا ہوگا
نو اماموں کی طرف سے مجھے لڑنا ہوگا
حسین غیظ میں ہے
مرتجز بولا مجھے بھی نہیں آتا ہے قرار
شہ کی نصرت کے لیے میں ہوں ازل سے تیار
دیکھ چہرے پہ نمایاں ہے غضب کے آثار
یوں اڑاتا ہوں میں خاک اپنے سموں سے ہر بار
شامیوں کو ہے بتانی مجھے حد بیعت کی
پاؤں سے کھود رہا ہوں میں لحد بیعت کی
حسین غیظ میں ہے
شامیوں شامیوں ابن علی بہر قتال آیا ہے
آج اللہ کی رحمت کو جلال آیا ہے
اللہ اللہ رے شبیر کی آمد کا جلال
تیغ خم ہوتی ہے ڈھالیں ہوئی جاتی ہیں نڈھال
عصر سے پہلے ہوا جاتا ہے لشکر کا زوال
شمر، خولی عمر سعد سبھی ہیں بے حال
خوف سے آتا نہیں ہے بن کاہل رن میں
چھپتے پھرتے ہیں علمدار کے قاتل رن میں
یا زہرا
کہہ کے یا زہرا جو مولا نے نکالی تلوار
ڈر گئے دیکھ کے کچھ لوگ نرالی تلوار
کچھ نے چوروں کی طرح پیچھے چھپالی تلوار
بولی یہ شام کے لشکر سے جلالی تلوار
وار سے اپنے سبھی فتنے کروں گی ٹکڑے
گن نہ پائے گی قضا اتنے کروں گی ٹکڑے
حسین غیظ میں ہے
افرا تفری تھی وہ بھگدڑ تھی وہ ہلچل توبہ
خون سے ایسی بنی دشت میں دلدل توبہ
اپنے حالات پہ خود کرتا تھا مقتل توبہ
کہہ رہا تھا ملک الموت مسلسل توبہ
خود کو گرتے ہوئے ہر بار سنبھالا اس نے
سر بچاتے ہوئے روحوں کو نکالا اس نے
حسین غیظ میں ہے
دیکھ کر تیغ دو سر نہر سے سرکے ظالم
بھاگتے پھرتے ہیں سب لشکر شر کے ظالم
جائیں تو جائیں کہاں شاہ سے ڈر کے ظالم
گھاٹ کے باقی رہے اور نہ گھر کے ظالم
گھر میں بھی گھسنے نہ اب دیں گے انہیں گھر والے
ک ت ی سے بھی بدتر ہوئے لشکر والے
حسین غیظ میں ہے
دم نکلتا تھا کسی کا کوئی بے دم دیکھا
سخت گرمی میں عجب سردی کا عالم دیکھا
خون جمتے ہوئے شریانوں میں پیہم دیکھا
فوج میں جس کو اٹھائے ہوئے پرچم دیکھا
قتل عباس علمدار کا قاضی بن کر
شہ نے وہ ہاتھ قلم کر دیا غازی بن کر
حسین غیظ میں ہے
موت بھی رقص میں تھی کیسا عجب تھا منظر
ایک انبار ترائی پہ تھا لاشوں کا ادھر
یہ سماں دیکھنے ٹھہری ہوئی سب کی تھی نظر
خوف سے نہر میں جو ڈوب گئے تھے جا کر
موجیں کہتی تھیں انہیں مار کے ٹھوکر نکلو
دشمن حضرت شبیر ہو باہر نکلو
حسین غیظ میں ہے
دیکھ کر شہ کا غضب بولے فرشتے پیہم
ہونے والی ہے خدائی ابھی درہم برہم
بولے جبریل نہ گھبراؤ فرشتو اس دم
خالق ارض و سما ہے یہی خالق کی قسم
کیا ہوا آج خدائی جو مٹا دیں گے حسین
پھر سے دنیا نئی کن کہہ کے بنا دیں گے حسین
حسین غیظ میں ہے
نہر بھی کہتی تھی یہ بات یہی صحرا بھی
خوف کے مارے ہوئے کہتے رہے اعدا بھی
زندہ تو زندہ صدا دیتا تھا یہ مردہ بھی
تیغ بھی حیدر کرار کی ہے بیٹا بھی
اس سے بچنے کی تمنا ہے تو للہ پڑھ لو
جتنے زندہ ہو علی ولی اللہ پڑھ لو
حسین غیظ میں ہے
مرتضی کی یہ صدا آتی تھی شاباش حسین
ماں زہرا تکلم بھی کہے جاتی تھی شاباش حسین
جد کا پیغام ہوا لاتی تھی شاباش حسین
ذات واجب بھی یہ فرماتی تھی شاباش حسین
داد دیتے تیرے اجداد بھی ایسا لڑتا
میں بدن رکھتا تو بالکل تیرے جیسا لڑتا
حسین غیظ میں ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.