Qambar aur fizza
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fizza (s.a) recited by Mir Hasan Mir
سنو سنو سنو سنو
ہے دوستو یہ چشم تصور کا واقعہ
ایک دن ہوا جو قنبر و فضہ کا سامنا
دونوں کو اہل بیت کی نسبت پہ ناز تھا
پھر یہ ہوا کہ چھڑ گیا رتبوں کا تذکرہ
اس گھر کے نوکروں کی ہے کیا آبرو سنو
اس دم ہوئی تھی دونوں میں جو گفتگو سنو
سنو سنو قنبر اور فضہ کی گفتگو سنو
قنبر یہ بولا سب سے ہے رتبہ میرا جدا
مشہور دو جہاں میں ہوں میں عبد مصطفی
مولا نے یوں کیا میری قسمت کا فیصلہ
شایان شان مرتبہ مجھ کو عطا ہوا
صد شکر میں غلام جناب امیر ہوں
شاہوں کو بھیک دیتا ہوں ایسا فقیر ہوں
فضہ نے دی صدا میرے پوچھو نہ مرتبے
طے کرتی ہوں میں لمحوں میں صدیوں کے فاصلے
مشہور دو جہاں میں ہیں میرے واقعہ
ہوتے ہیں عرش والوں میں بھی میرے تذکرے
بس یہ صفت ہی کافی ہے کونین کے لیے
میں روٹیاں پکاتی ہوں حسنین کے لیے
قنبر یہ بولا آج سنو میرے معجزات
بس میں ہی جانتا ہوں غلامی کی کل صفات
جس دم علی کے قدموں پہ ہوتے ہیں میرے ہاتھ
محسوس مجھ کو ہوتی ہے مٹھی میں کائنات
ٹھوکر سے میری نور کے چشمے ابھرتے ہیں
شمس و قمر بھی میرے اشارے پہ چلتے ہیں
فضہ نے داد دے کے کہا میری بات سن
کیسی حسیں ملی ہے مجھے کائنات سن
وہ تیرے معجزے تھے میرے معجزات سن
پہنچے ہیں کس مقام پہ فضہ کے ہاتھ سن
میں نے حسن حسین کو ان سے اٹھایا ہے
زینب کو میرے ہاتھوں نے چلنا سکھایا ہے
قنبر یہ بولا سچ ہے میں کوئی نبی نہیں
میرے لیے تو کوئی شریعت بنی نہیں
مجھ کو کوئی کتاب خدا سے ملی نہیں
پر میرے اختیار میں بھی کچھ کمی نہیں
حیدر کی نوکری کے سبب کامیاب ہوں
میں چلتی پھرتی عشق علی کی کتاب ہوں
فضہ یہ بولی دیکھا ہے عصمت کا میں نے نور
خیر النساء کے فیض سے حاصل ہے یہ غرور
مریم سے بڑھ کے بخشا گیا ہے مجھے شعور
مجھ سے رکھا ہے فاطمہ زہرا نے رجس دور
خلقت سے خاک خدمت بنت رسول ہوں
صدقہ ہے یہ بتول کا میں بھی بتول ہوں
قنبر یہ بولا ماننے والا ہوں اصل کا
قائل ہوں دل سے میں بھی بلا فصل وصل کا
سیکھا ہے با کے نقطے سے ہر نقطہ عقل کا
مجھ کو ملا ہے درس امامت سے عدل کا
ثانی نہیں ہے کوئی میرا خاص و عام میں
مولا نے میرا ہاتھ بٹایا ہے کام میں
فضہ یہ بولی ہاں یہ علی کا اصول ہے
یہ بھی تو سوچ میری مدرس بتول ہے
جس کے سبب شریعتوں کا عرض و طول ہے
احسان کسی کا فاطمہ کو کب قبول ہے
بنت نبی سے میں نے مساوات سیکھی ہے
خود فاطمہ نے چکی میرے ساتھ پیسی ہے
اکبر قلم کو روک لے مشکل ہے فیصلہ
اس در کی نوکری کا شرف ہے بہت بڑا
کتنی فضیلتوں کا ہے منظر یہ مرتبہ
یہ خادم علی ہے وہ زہرا کی خادمہ
دونوں کی بات اپنی جگہ لاجواب ہے
ان کی کوئی مثال نہ ان کا جواب ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.