Abbas naam hai mera
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
یابن زہرا یا عباس
میں عین سے حسین کا عاشق بھی عشق بھی
بے سے ہوں بوتراب کی میں حسرتیں بھی
ظاہر الف سے ہے ابو طالب کی آگہی
اور سین سے حسن کی سمجھ بوجھ ساتھ بھی
عباس دیکھنے میں فقط میرا نام ہے
دراصل یہ حسین کے لشکر کا نام ہے
عباس نام ہے میرا
مانگا ہے رب سے مالک کونین نے مجھے
بیٹا کہا ہے مادر حسنین نے مجھے
اسمائے پنجتن کا اثاثہ ہے میرا نام
الفاظ ہیں طواف میں کعبہ ہے میرا نام
اسرار اور رموز کی دنیا ہے میرا نام
خود مصطفی کی بیٹی نے میرا نام
بے جان نہیں ہے حرف کوئی میرے نام میں
سمٹی ہوئی ہے ناد علی میرے نام میں
توحید کو ہے ناز خدائے وفا ہوں میں
مشکل کشا کا لال ہوں مشکل کشا ہوں میں
برسوں جبین شیر خدا میں رہا ہوں میں
دہرایا جب علی کو خدا نے بنا ہوں میں
خلقت میں میری دخل نہیں ما و طین کو
تحفہ ہوں میں بتول کا ام البنین کو
قہر خدا کی بولتی تصویر میری تیغ
روحوں پہ موت کرتی ہے تحریر میری تیغ
تیغوں میں مثل آیہ تطہیر میری تیغ
طوفان نوح خواب ہے تعبیر میری تیغ
عصمت کی پہرے دار ہے تطہیر کی قسم
یہ چھوٹی ذوالفقار ہے شبیر کی قسم
تلوار میری جائے گی رن میں جدھر جدھر
بارش وہاں پہ ہوگی سروں کی سرر سرر
اشہب کے پاؤں پیسیں گے تم کو کرر کرر
دیکھے گی موت خود یہ نظارے ٹکر ٹکر
سن سن کی صوت ایسی سماعت میں چھائے گی
دھڑ دھڑ گریں گے دھڑ نہ صدا تم کو آئے گی
میں چاہتا ہوں قوت بازو پہ جنگ ہو
دیکھوں تو تم کو کتنے بہادر ہو شامیوں
منظور یہ نہیں ہے تو خود فیصلہ کرو
دکھلاؤں معجزات میں اپنے جو تم کہو
دریا پہ ہاتھ دھو گے ابھی تم حیات سے
اپنے سروں کو کاٹو گے خود اپنے ہاتھ سے
ایسے کروں گا وار سنبھلنے نہ دوں گا میں
پہلو بھی تم کو آج بدلنے نہ دوں گا میں
تلوار کیا زبان بھی چلنے نہ دوں گا میں
نظروں کے دائرے سے نکلنے نہ دوں گا میں
میری ہے کائنات کہاں بچ کے جاؤ گے
سن لو جہاں چھپو گے وہاں مجھ کو پاؤ گے
تم کو گھمنڈ فوج پہ کثرت پہ ہے غرور
ان بازوؤں کے زور کا تم کو نہیں شعور
پل میں نکال دوں گا میں ذہنوں کا ہر فتور
دوزخ کا نام آج سے ہوگا یزید پور
ہم کہہ کے یا علی جو ابھی تیغ اٹھائیں گے
مردے تمہارے زیر کفن تھرتھرائیں گے
مشہور ہے یہ بات خدا کی خدائی میں
ماہر ہے میری تیغ صفوں کی صفائی میں
تم کیا میں دو جہاں ڈبو دوں ترائی میں
دست خدا کا زور ہے میری کلائی میں
چاہوں تو بیٹھے بیٹھے میں اشہب کی زین پر
لہرا کے آسماں کو الٹ دوں زمین پر
عالم تھا تیرہ سال میں ایسا جلال کا
صفین میں بدل دیا نقشہ جدال کا
اب تو شباب آیا ہے میرے کمال کا
عباس آج ہو گیا بتیس سال کا
سن لو قضا کے گھاٹ اتاروں گا میں تمہیں
گھیرا ہے تم نے گھیر کے ماروں گا میں تمہیں
دنیا نہ سمجھی میر تکلم یہ فلسفہ
پرچم ہے سرخ گنبد ابن بتول کا
یعنی رکی نہیں ہے ابھی جنگ کربلا
اور آ رہی ہے روضہ عباس سے صدا
روکے گا مجھ کو تب نہ نواسہ رسول کا
مہدی کے ساتھ لوں گا میں بدلہ بتول کا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.