Mayyat hai sakina ki
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Nasir Zaidi
میت ہے سکینہ کی اندھیرا ہائے زندان
اللہ نہ دِکھلائے اب ایسا زندان
کُرتے کا کفن غسل دیا اشکوں سے جس کو
دفنا اُسے کیسے یہ سجاد سے پوچھو
خاموش ہوئی بچی تو روتا رہا زندان
...میت ہے سکینہ کی
اُڑتے ہوئے دیکھے جو پرندے تو پُکاری
اے طاہروں صغریٰ کو خبر دو یہ ہماری
تم خوش رہو صغریٰ میری قسمت میں تھا زندان
...میت ہے سکینہ کی
کانوں کا لہو چاند سے چہرے پہ جما تھا
خیموں میں لگی آگ جو دامن بھی جلا تھا
تنہائی میں بچی ڈستا رہا زندان
...میت ہے سکینہ کی
سہمی ہوئی رہتی تھی ستمگاروں کے ڈر سے
شکوے کیا کرتی تھی فقد باپ کے سر سے
لکھا گیا قسمت میں یہ کیسا زندان
...میت ہے سکینہ کی
اب خاک پہ سوتی ہوں نہ تکیہ ہے نہ بستر
رکھتا نہیں اک شمع کوئی اب تو جلا کر
جینے نہیں دیتا ہے اے بابا زندان
...میت ہے سکینہ کی
کہتی تھی پھُوپھی قید سے کب ہو گی رہائی
اما ں میرے عموں کی خبر کیوں نہیں آئی
ٹکڑے کیئے دیتا ہے کلیجہ میرا زندان
سر باپ کا پایا تو وہ پھر اس طرح سوئی
پھر روئی نہیں اُس کے لیے موت تھی روئی
رہا سجاد کو پُرسہ صدا زنداندیتا
...میت ہے سکینہ کی
ماں کہتی رہی آئو اُٹھو نیند سے جاگو
آزاد ہوئی قید سے میں جاتی ہوں گھر کو
ملنے چلو صغریٰ سے کے اب کھُل گیا زندان
...میت ہے سکینہ کی
گھر جانے کا ارماں تھا سکینہ کو جو ریحان
مر کے بھی نہ پورا ہوا اُس بچی کا ارمان
معصوم سکینہ کا مرقد بنا زندان
...میت ہے سکینہ کی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.