Sarwar ke azadar
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Hasan Mir
سرور کے عزادار -
مظلوم کی تلوار - سرور کے عزادار
ہے دین کے مددگار سرور کے عزادار -
اللہ نے جب خلق کے معیار بنائے
جو ظرف کشادہ تھے وہ سردار بنائے
سردار میں کچھ صاحب انوار بنائے
انوار تراشے تو عزادار بنائے
اب جو میرے مولا کا عزادار نہیں ہے
خود سے ذرا سوچے کہ وہ باکار نہیں ہے
تخلیق کی ترکیب میں ہیں عناصر
سب ہیں میرے مولا کے عزادار عناصر
اس واسطے ہیں صاحب اسرار عناصر
خود کرتے ہیں اس بات کا اقرار عناصر
نہ آگ نہ پانی سے نہ مٹی سے ہوا سے
ہم خلق ہوئے فاطمہ زہرا کی دعا سے
سچ ہے کہ نظر ہو تو ہٹے عیب نظر کا
موسم تو کبھی دیکھیے توحید نگر کا
مغموم فضا سرخ شفق حزن سحر کا
کالا ہے غلاف اس لیے اللہ کے گھر کا
توحید پرستار ولی ابن ولی ہے
خالق بھی عزادار حسین ابن علی ہے
کس ظرف کا حامل ہے عزادار کا سینہ
نہ بغض نہ الحاد نہ اوہام نہ کینہ
ہے کرب و بلا کا یہاں آباد مدینہ
اس شہر میں دشوار ہے اغیار کا جینا
سینے پہ جو ماتم کی یہ تحریک چلی ہے
سینے میں ہے دل دل میں حسین ابن علی ہے
ہم سینوں پہ ماتم سے بناتے ہیں مصلے
ہوتی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.