Gham shahe shaheeda ka manana hi padega
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Azadari recited by Mir Hasan Mir
غم شاہ شہیداں کا منانا ہی پڑے گا
سوئی ہوئی قسمت کو جگانا ہی پڑے گا
غم شاہ شہیداں
ایسے نہیں مانے گا میری بات زمانہ
ماتم کے لیے ہاتھ اٹھانا ہی پڑے گا
سوئی ہوئی قسمت کو جگانا ہی پڑے گا
یہ مادر عیسی تو نہیں ہے جو پلٹ جائے
کعبے کو نیا در تو بنانا ہی پڑے گا
سوئی ہوئی قسمت کو جگانا ہی پڑے گا
شبیر کا غم رکھ لوں گا ہر چیز لٹا کر
جینے کے لیے کچھ تو بچانا ہی پڑے گا
سوئی ہوئی قسمت کو جگانا ہی پڑے گا
جنت کی غذا کھانے کی خواہش ہے تو واعظ
مجلس کا تبرک تجھے کھانا ہی پڑے گا
سوئی ہوئی قسمت کو جگانا ہی پڑے گا
عباس کو دیکھا تو نصیری نے یہ سوچا
بس آج تو ایمان بچانا ہی پڑے گا
سوئی ہوئی قسمت کو جگانا ہی پڑے گا
جو لوگ فدک کھا کے بنے صاحب دولت
ان چہروں کو آئینہ دکھانا ہی پڑے گا
سوئی ہوئی قسمت کو جگانا ہی پڑے گا
اسلام کے پرچم کو بچانا ہے تو واعظ
عباس کے پرچم کو اٹھانا ہی پڑے گا
سوئی ہوئی قسمت کو جگانا ہی پڑے گا
میں نے تو در شاہ پہ سر رکھ دیا یاسر
تقدیر کو اب اوج پہ جانا ہی پڑے گا
سوئی ہوئی قسمت کو جگانا ہی پڑے گا
غم شاہ شہیداں کا منانا ہی پڑے گا
سوئی ہوئی قسمت کو جگانا ہی پڑے گا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.